پاکستان نے بنوں کے علاقے فتح خیل پولیس اسٹیشن پر دہشتگرد حملے کا الزام کالعدم دہشت گرد تنظیم ’فتنہ الخوارج‘ پر عائد کیا ہے، جس کی قیادت مبینہ طور پر گل بہادر کر رہا ہے اور جس کے عناصر افغانستان میں موجود ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور ایسے دہشتگرد نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے تھے جو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی اور تحفظ میں کام کر رہے ہیں۔ حکام نے اس حملے کو ’افسوسناک دہشتگرد کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی دہشتگرد سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ پاکستان کی حالیہ عسکری کارروائیوں ’معرکۂ حق‘ اور ’غضب لِلحق‘ کے بعد دشمن عناصر کی مایوسی اور ناکامی کا نتیجہ ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کے باعث دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سیکیورٹی حکام نے 10 مئی کو پاکستان کی عسکری قیادت کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز(سی ڈی ایف) نے بھارت سے دو ٹوک کہا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کی حمایت بڑھا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت اور افغان طالبان کی جانب سے بنوں حملہ اسی حکمت عملی کا نتجیہ ہے، جس میں ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ جیسے گروہوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ان گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ اور سیکیورٹی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’آپریشن غضب لِلحق‘ جاری رہے گا اور پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ فتح خیل حملے میں ملوث عناصر کو بھی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
سکیورٹی حکام نے کہا کہ افغان طالبان حکومت پر دباؤ مزید بڑھایا جائے گا تاکہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی ختم کی جا سکے۔
داخلی سطح پر حکام نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کی مقامی معاونت ختم کرنے اور امن و امان کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
حکام کے مطابق 2026 کے دوران صرف بنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 171 مشتبہ دہشتگرد ہلاک جبکہ 177 سے زیادہ زخمی ہو جا چکے ہیں۔
بیان میں خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیااور کہا گیا کہ بھرتیوں، تبادلوں اور تعیناتیوں میں سیاسی مداخلت کم کرکے پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
حکام نے کہا کہ فتح خیل پولیس اسٹیشن پر حملے نے خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد بڑھانے اور اس کے انفراسٹرکچر کو مزید محفوظ بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے تاکہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر انداز میں لڑا جا سکے۔
افواج پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وہ خیبر پختونخوا پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور فوج و پولیس کے درمیان تعاون نچلی سطح کے پولیس اسٹیشنوں اور چیک پوسٹوں سے لے کر قومی سطح تک جاری ہے۔
واضح رہے کہ بنوں میں فتح خیل پولیس اسٹیشن پر 9 مئی کو ہونے والے فتنہ الخوارج دہشتگردوں کے حملے میں 15 پولیس جوان شہید اور 4 جوان زخمی ہو گئے تھے۔