ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ 14 نکاتی تجویز میں ایرانی عوام کے حقوق واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’14 نکاتی تجویز میں بیان کردہ ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔‘
باقر قالیباف نے کہا کہ کوئی بھی دوسرا راستہ مکمل طور پر غیر نتیجہ خیز ہوگا، ایک کے بعد دوسری ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’جتنا زیادہ وہ (امریکہ) تاخیر کریں گے، اتنا ہی اس کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑے گی۔‘
اس سے قبل ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ایران ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہے، ہماری مسلح افواج کسی بھی طرح کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب تک تو دنیا بھی سمجھ چکی ہے کہ غلط حکمتِ عملی اور فیصلوں کے ہمیشہ غلط نتائج نکلتے ہیں، ہم ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہیں، انھیں دیکھ کر حیرت ہو گی۔‘
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا سے کیے گئے تمام مطالبات جائز ہیں، فراخدلانہ اور ذمہ دارانہ تجاویز پیش کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ اور بحری قزاقی کے خاتمے، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان سمیت خطے میں سیکیورٹی کے قیام جیسے جائز مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ ثالث اب بھی پاکستان ہے۔