پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کا جھوٹا دعویٰ، غلط رپورٹنگ پر جیمز لا پورٹا سی بی ایس نیوز سے بھی برطرف

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کا جھوٹا دعویٰ، غلط رپورٹنگ پر جیمز لا پورٹا سی بی ایس نیوز سے بھی برطرف

نامورامریکی میڈیا ہاؤس ’سی بی ایس نیوز‘ نے اپنے نیشنل سیکیورٹی کوآرڈینیٹنگ پروڈیوسر اور صحافی جیمز لا پورٹا کو ادارے سے برطرف کر دیا ہے۔

یہ کارروائی مئی 2026 کے آغاز میں پاکستان کے نور خان ایئر بیس پر ایرانی فوجی طیاروں کی موجودگی سے متعلق ایک من گھڑت اور جھوٹی خبر نشر کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

جیمز لا پورٹا نے اپنی رپورٹ میں نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات کے دوران ایران نے اپنے جاسوس طیارے اور لڑاکا طیارے پاکستان بھیجے ہیں تاکہ اپنے مذاکرات کاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے بچا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا : سابق سربراہ پاک فضائیہ نور خان کی صاحبزادی ڈاکٹر فائقہ قریشی ٹریفک حادثے میں جاں بحق

اس رپورٹ کو پاکستانی حکام نے فی الفور مسترد کرتے ہوئے اسے ’گمراہ کن اور مضحکہ خیز‘ قرار دیا تھا۔ پاکستانی حکام کا مؤقف تھا کہ نور خان ایئر بیس ایک شہری علاقے کے وسط میں واقع ہے جہاں ایسی کسی بھی بڑی فوجی نقل و حرکت کو چھپانا ناممکن ہے۔ اس جھوٹی خبر کے باعث پیدا ہونے والے سفارتی تناؤ اور جیمز لا پورٹا کے مشکوک ریکارڈ کے پیش نظر، ادارے نے انہیں فارغ کرنے کا فیصلہ کیا۔

جیمز لا پورٹا کی صحافتی تاریخ اور ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے اخراج

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جیمز لا پورٹا کو غلط رپورٹنگ پر برطرفی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ان کا ماضی ایسی سنگین غلطیوں سے بھرا ہوا ہے جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں:

نومبر 2022  میں جب لا پورٹا ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) سے وابستہ تھے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی میزائلوں نے پولینڈ پر حملہ کر کے 2 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ خبر عالمی سطح پر تیسری جنگ عظیم کے خوف کا باعث بنی، کیونکہ پولینڈ ایک ناٹو ملک ہے۔

بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ میزائل یوکرین کے دفاعی نظام کا حصہ تھا جو غلطی سے پولینڈ میں گرا تھا۔ اے پی نے اس غلطی کو ’انتہائی سنگین‘ قرار دیتے ہوئے نومبر 2022 میں ہی لا پورٹا کو برطرف کر دیا تھا۔

اے پی اور اب سی بی ایس دونوں اداروں میں لا پورٹا نے ’نامعلوم امریکی انٹیلی جنس ذرائع‘ کا سہارا لے کر سنسنی پھیلانے کی کوشش کی، جو کہ صحافتی ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

نامعلوم ذرائع اور قومی سلامتی کی صحافت

جیمز لا پورٹا کا کیس جدید صحافت کے لیے ایک عبرت ناک مثال ہے، جس کے کئی اہم پہلو ہیں، جب ایک صحافی بار بار ’نامعلوم ذرائع‘ کے نام پر جھوٹی خبریں گھڑتا ہے، تو اس سے نہ صرف اس کی اپنی بلکہ پورے ادارے کی ساکھ خاک میں مل جاتی ہے۔ سی بی ایس نیوز نے اگرچہ خبر واپس نہیں لی، لیکن لا پورٹا کی برطرفی اس بات کا اعتراف ہے کہ خبر کا مواد مشکوک تھا۔

پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ایک پیشہ ورانہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسی حساس صورتحال میں ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی کا جھوٹا دعویٰ کرنا دراصل پاکستان کی غیر جانبداری کو مشکوک بنانے کی ایک منظم کوشش معلوم ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں ایسی خبریں منٹوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ لا پورٹا جیسے صحافی ’سب سے پہلے خبر دینے‘ کی دوڑ میں ’درست خبر دینے‘ کے بنیادی اصول کو فراموش کر چکے ہیں۔

Related Articles