ایران نے امریکا کے خلاف بین الاقوامی قانونی محاذ کھولتے ہوئے بین الاقوامی ثالثی عدالت میں باضابطہ مقدمہ دائر کر دیا ہے جسے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑی سفارتی اور قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مقدمہ امریکا کی جانب سے جوہری تنصیبات پر مبینہ فوجی جارحیت اقتصادی پابندیوں کے نفاذ اور طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ تہران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف حالیہ 12 روزہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی۔
ایران نے اپنی درخواست کی بنیاد 1981 کے الجزائر معاہدوں کو بنایا ہے ایرانی حکومت کے مطابق ان معاہدوں کے تحت امریکا نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ ایران کے اندرونی، سیاسی اور فوجی معاملات میں براہِ راست یا بالواسطہ مداخلت نہیں کرے گا تاہم حالیہ اقدامات اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ایران کا یہ اقدام صرف قانونی کارروائی نہیں بلکہ امریکا پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی ہے کیونکہ خطے میں پہلے ہی ایران امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ شدت اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران عالمی فورمز پر یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ قانونی اور سفارتی سطح پر بھی متحرک ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کو مبینہ جارحانہ اقدامات اقتصادی دباؤ اور دھمکی آمیز پالیسیوں پر جوابدہ بنایا جائے۔ دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے تاحال اس مقدمے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جنگ بندی جوہری مذاکرات اور ممکنہ سفارتی حل سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے جبکہ عالمی طاقتیں بھی مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کیلئے سرگرم دکھائی دے رہی ہیں۔