کابل حکومت دہشتگردوں کی پشت پناہی ختم کرنے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں، خواجہ آصف

کابل حکومت دہشتگردوں کی پشت پناہی ختم کرنے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں، خواجہ آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کابل حکومت اس وقت بھارت کی ’پراکسی‘ کا کردار ادا کر رہی ہے اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف بالواسطہ جنگ لڑی جا رہی ہے۔

ایوان بالا ’سینیٹ ‘ میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ بھارت اب براہِ راست پاکستان پر حملے کی جرات نہیں کرے گا، اس لیے وہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے بطور ’پراکسی‘ استعمال کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج تنظیمیوں کی سرپرستی،بھارتی پالیسیاں امن کیلئے خطرہ ہیں ،خواجہ آصف

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کئی بار قطر، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے دوست ممالک کے ذریعے کابل انتظامیہ سے رابطہ کیا اور مذاکرات کیے، لیکن ان تمام کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کابل حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی ختم کرنے یا ان کی سرگرمیاں روکنے کی کوئی بھی ضمانت دینے کو تیار نہیں ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں، جبکہ طویل عرصے کے بعد اب خیبر پختونخوا حکومت کا تعاون بھی حاصل ہو رہا ہے جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

پاک، افغان تعلقات اور سیکیورٹی چیلنجز

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی ایک طویل تاریخ ہے، جو حالیہ مہینوں میں شدت اختیار کر گئی ہے، پاکستان کا مسلسل یہ مؤقف رہا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

پاکستان ہمیشہ سے افغان سرزمین پر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ کی موجودگی اور وہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کی مالی معاونت پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔

قطر اور سعودی عرب نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان برف پگھلانے کے لیے کئی بار ثالث کا کردار ادا کیا، لیکن زمینی حقائق میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

ہائبرڈ وار اور سفارتی ڈیڈ لاک

وزیر دفاع کا یہ کہنا کہ بھارت اب براہِ راست نہیں لڑے گا، اس بات کی نشاندہی ہے کہ خطے میں روایتی جنگ کی جگہ اب ’ہائبرڈ وار فیئر‘ نے لے لی ہے، جہاں دہشتگرد گروہوں کو بطور مہرہ استعمال کیا جاتا ہے۔

کابل حکومت کا ضمانت دینے سے انکار دو ہی صورتوں میں ہو سکتا ہے یا تو وہ ان گروہوں پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، یا پھر وہ جان بوجھ کر انہیں پاکستان کے خلاف ایک ’لیوریج‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون کا ذکر انتہائی اہم ہے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبے کا ایک پیج پر ہونا کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

ترکیہ اور سعودی عرب جیسے بااثر ممالک کے ذریعے بھی بات چیت کا ناکام ہونا ظاہر کرتا ہے کہ پاک-افغان تعلقات میں ڈیڈ لاک انتہائی سنگین ہو چکا ہے اور اب شاید پاکستان کو سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔

Related Articles