وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کی بنیادی وجوہات میں بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی بھی شامل ہے، انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ان علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں ریکوری بہتر ہے، تاہم جن علاقوں میں بجلی کے واجبات ادا نہیں کیے جاتے وہاں خسارہ بڑھنے کے باعث لوڈشیڈنگ کرنا مجبوری بن جاتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ملک بھر کے تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار فیڈرز پر زیرو لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ کم ریکوری والے علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ زیادہ ہے،انہوں نے کہا کہ اگر ایسے علاقوں میں بھی مکمل بجلی فراہم کی جائے تو بجلی کے شعبے کا مالی خسارہ مزید بڑھ جائے گا جس کا بوجھ قومی معیشت پر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں :لوڈشیڈنگ،بجلی کی صورتحال پر ترجمان پاور ڈویژن کا اہم بیان
اویس لغاری نے کہا کہ حکومت لوڈشیڈنگ کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی لانے جا رہی ہے ، اب لوڈشیڈنگ صرف فیڈرز کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹرانسفارمر کی سطح پر کی جائے گی تاکہ بل ادا کرنے والے صارفین متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے تکنیکی معاملات پر کام جاری ہے اور امید ہے کہ ایک سال کے اندر نئی پالیسی مکمل طور پر نافذ کر دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اپنے حلقے میں بھی پانچ ایسے فیڈرز موجود ہیں جہاں اٹھارہ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، وزیرِ توانائی نے کہا کہ مستقبل میں جس ٹرانسفارمر سے منسلک صارفین بجلی کے بل ادا نہیں کریں گے وہاں لوڈشیڈنگ ہوگی، جبکہ باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے علاقوں کو اس سے استثنا حاصل رہے گا تاہم جہاں بل نہیں ادا ہوں گے وہاں بجلی بندش ہوگی۔

