ہرقسم کے خطرات سے مقابلے کیلئے تیار، خون کے آخری قطرے تک ایران کی سالمیت و آزادی کا دفاع کرینگے، ایرانی آرمی چیف

ہرقسم کے خطرات سے مقابلے کیلئے تیار، خون کے آخری قطرے تک ایران کی سالمیت و آزادی کا دفاع کرینگے، ایرانی آرمی چیف

ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور انشاء اللہ مکمل فتح تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

اپنے بیان میں میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایمان کی طاقت ہی ایک ایف 5 لڑاکا طیارے کو امریکا کے کویت میں موجود فوجی ٹھکانوں کے اوپر تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے، حالانکہ وہاں جدید ترین دفاعی نظام موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج ملک کی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔

ایرانی آرمی چیف نے مزید کہا کہ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ مقدس مشن اپنی تمام تر توانائی، دستیاب وسائل اور خون کے آخری قطرے تک جاری رکھا جائے گا۔

دوسری جانب برکس اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ اور کارروائی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گا، 40 دن کی جنگ کے بعد امریکا کو ایران پر جارحیت سے کوئی مقصد حاصل نہ ہوا تو پھر امریکا نے مذاکرات کی بات کی،پاکستان کی ثالثی کی کوششیں ناکام نہیں ہوئیں بس مشکلات کا شکار ہیں ۔

انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران بھارت پر زور دیا کہ وہ تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرے۔

یہ بھی پڑھیں :ایران نے برکس ممالک سے امریکی و اسرائیلی جنگی جارحیت کی مذمت کا مطالبہ کردیا

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے، انہیں امریکا پر اعتماد نہیں کیونکہ امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات موصول ہورہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بعض طاقتیں سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم پاکستان کا مصالحتی مشن اب بھی جاری ہے، ایران کے کسی معاملے کا فوجی حل نہیں ہے، ایران کئی سالوں سے ایران امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے، سوائے اُن جہازوں کے جو ایران مخالف فوجی کارروائیوں میں شریک ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہئیں، موجودہ مذاکرات میں بھروسے کا فقدان ہے لیکن مجھے امید ہے کہ حکمت اور سفارتکاری کامیاب ہوں گے۔

editor

Related Articles