59 ہزار سال پرانے دانت میں سرجری کے آثار

59 ہزار سال پرانے دانت میں سرجری کے آثار

سائنسدانوں نے روس کے علاقے سائبیریا میں واقع چاگیرسکایا غار سے دریافت ہونے والے تقریباً 59 ہزار سال پرانے قدیم انسان (نینڈرتھل انسان) کے ایک دانت میں ایسی حیران کن علامات دریافت کی ہیں جو دنیا کی قدیم ترین ڈینٹل سرجری کا ثبوت ہو سکتی ہیں۔

تحقیقی جریدے پی ایل او ایس،ون(PLOS One) میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق دانت میں ایک گہرا سوراخ موجود تھا، جسے ماہرین کے خیال میں جان بوجھ کر ایک نوکیلے پتھر کے آلے سے تراشا گیا تاکہ خراب حصے کو نکالا جا سکے اور درد میں کمی لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں :انڈونیشیا کے قبیلے میں نیلی آنکھوں کا انوکھا راز، سائنسدان بھی حیران

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ انسانی تاریخ میں دانتوں کے علاج کی سب سے قدیم مثال ہوگی، جو اٹلی میں ملنے والے قدیم ترین ڈینٹل ٹریٹمنٹ سے تقریباً 45 ہزار سال زیادہ پرانی ہے۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق اس عمل کیلئے منصوبہ بندی، ہاتھ کی انتہائی درست حرکت اور درد کم کرنے کی بنیادی سمجھ بوجھ درکار تھی، جو اس خیال کو چیلنج کرتی ہے کہ نینڈرتھل انسان کم ذہین تھے۔

یہ بھی پڑھیں :چاند پر 5 اگست کو کیا ہونے جا رہا ہے؟ ماہرین نےحقیقت بتا دی

تحقیق کے دوران جدید انسانی دانتوں پر تجربات بھی کیے گئے، جن سے معلوم ہوا کہ جاسپر پتھر سے بنے اوزار، جو اسی غار سے ملے تھے، دانت پر بالکل ویسے ہی نشانات چھوڑ سکتے ہیں جیسے دریافت شدہ دانت پر موجود تھے۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ جس شخص کا یہ دانت تھا وہ علاج کے بعد کافی عرصے تک زندہ رہا، کیونکہ دانت پر مسلسل استعمال کے آثار بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سمندر میں حیران کن واقعہ، ڈولفنز نے انسانوں کو خطرناک شارک سے بچا لیا

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سوراخ کو ممکنہ طور پر کسی مادے، جیسے موم، سے بھرا بھی گیا ہوگا، تاہم اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔یہ دریافت اس بڑھتے ہوئے سائنسی ثبوت میں مزید اضافہ کرتی ہے کہ نینڈرتھل انسان محض غاروں میں رہنے والے سادہ انسان نہیں تھے بلکہ وہ طب، اوزار سازی، علامتی رویوں اور بقا کی مہارتوں میں کافی ترقی یافتہ تھے۔

editor

Related Articles