پاکستانی فضائی حدود کی بندش، مودی سرکار کی جارحانہ پالیسی ایئر انڈیا کو لے ڈوبی

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، مودی سرکار کی جارحانہ پالیسی ایئر انڈیا کو لے ڈوبی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ہوا بازی کی صنعت شدید ترین بحران کا شکار ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی نیوز ایجنسی ’رائٹرز‘ اور ایئر انڈیا کی اہم شیئر ہولڈر ’سنگاپور ایئر لائنز‘ کی حالیہ رپورٹس نے بھارتی ایوی ایشن کی گرتی ہوئی ساکھ اور مالیاتی بدحالی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، بھارت کی سرکاری سرپرستی میں چلنے والی ایئر لائن ’ایئر انڈیا‘ کا سالانہ خسارہ 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جس نے مودی سرکار کی ناقص معاشی پالیسیوں اور بیرونی سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کو واضح کر دیا ہے۔

خسارے کی ہولناک تفصیلات اور رائٹرز کی رپورٹ

عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بھارتی ایوی ایشن کی پستی کو آشکار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایئر انڈیا اس وقت اپنے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایئر انڈیا نے ایک بار پھر سینکڑوں مسافروں کی جان خطرے میں ڈال دی

رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کا سالانہ خسارہ 2 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکا ہے۔ کمپنی کے سالانہ منافع میں 57.4 فیصد کی خطیر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس میں مستقبل قریب میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

شدید مالیاتی بحران اور آپریشنل مشکلات کے باعث ایئر انڈیا گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنی کئی اہم بین الاقوامی پروازیں بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے برانڈ کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

پاکستانی فضائی حدود کا بند ہونا

اس اسٹرٹیجک اور مالیاتی ناکامی کا پس منظر مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور پاکستان کی مؤثر خارجہ و دفاعی حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق، ’معرکہ حق‘ میں پاکستان کی جانب سے اپنائی گئی موثر حکمت عملی اور فضائی حدود (ایئر اسپیس) کی بندش نے بھارتی ہوائی کمپنیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ماضی میں بھی جب پاکستان نے اپنی فضائی حدود بھارتی پروازوں کے لیے بند کیں، تو بھارتی ایئر لائنز کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ جانے کے لیے طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑے۔

طویل راستوں کی وجہ سے ایندھن کے اخراجات دگنے ہو گئے، فلائٹ ٹائمنگ بڑھ گئی اور آپریشنل لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کا خمیازہ اب 2 ارب ڈالر کے خسارے کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

اقتصادی اور ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک ایئر لائن کا نقصان نہیں ہے، بلکہ یہ مودی سرکار کے اس دعوے کی نفی ہے جس میں وہ بھارتی معیشت کو مستحکم دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بحران بھارتی معیشت کے کھوکھلے پن اور ایئر انڈیا کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سنگاپور ایئر لائنز جیسی بڑی عالمی شراکت دار کمپنی کی رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ اب بیرونی سرمایہ کاروں کا بھارتی مارکیٹ پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔

مودی حکومت کی انتہا پسندانہ علاقائی پالیسیوں اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی نے بھارتی کارپوریٹ سیکٹر کو عالمی تنہائی اور دیوالیہ پن کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایئر انڈیا کا بچنا ناممکن ہو جائے گا۔

Related Articles