منشیات کیس کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کو سخت سیکیورٹی میں اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پیشی کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
ملزمہ کو عدالت میں منہ ڈھانپ کر پیش کیا گیا جبکہ پیشی کے دوران وہ پولیس اہلکاروں پر الزامات عائد کرتی رہیں اور میڈیا نمائندوں سے بھی مسلسل مخاطب ہوتی رہیں۔
پیشی کے دوران صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب ملزمہ اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ہاتھا پائی جیسی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ پولیس اہلکاروں نے انہیں بار بار خاموش کرانے اور میڈیا کے نمائندوں سے بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔
ملزمہ کی منتقلی کے لیے 2 قیدی وینز اور 9 پولیس موبائلوں پر مشتمل بھاری نفری کا قافلہ استعمال کیا گیا ماضی میں اس طرح کا بھاری پروٹوکول صرف ہائی پروفائل دہشت گردوں کی منتقلی کے وقت دیکھنے میں آتا تھا۔
عدالت آمد کے موقع پر پولیس اہلکاروں نے ملزمہ کی سیکیورٹی کے لیے موبائل کے اطراف ایک سخت حصار بنا رکھا تھا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
عدالتی کارروائی کے دوران ملزمہ نے الزام عائد کیا کہ ان سے زبردستی بیان لیا جا رہا ہے اور انہیں مخصوص افراد کے نام لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے ان پر تشدد کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔
ملزمہ نے عدالت میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف 25 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ وہ اپنے خلاف کارروائی کو سیاسی یا ذاتی انتقام قرار دیتی رہیں۔
دوسری جانب پولیس کی جانب سے عدالت سے ملزمہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ہے جبکہ ملزمہ کے وکیل نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے اور طبی بنیادوں پر اسپتال منتقل کرنے کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔