فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت اور ملکی معاشی نظام کی خرابیوں کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کر کے سیاسی و معاشی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں عمران خان دور حکومت میں ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں ’تبدیلی‘ یا ’انقلاب‘ کا نعرہ محض ایک لفظ ہے اور جو کوئی بھی اس بوسیدہ نظام کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے، یہ سٹیٹس کو (موجودہ نظام) اسے 6 مہینے میں باہر پھینک دیتا ہے۔
ایف بی آر میں اصلاحات کی ناکامی اور شدید دباؤ
شبر زیدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے دوران اپنے کام کرنے کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عہدے پر رہتے ہوئے شدید دباؤ کا شکار تھے اور جو اصلاحات وہ ملکی معیشت کے لیے کرنا چاہتے تھے، انہیں کرنے نہیں دیا گیا۔
شبر زیدی نے اپنی ناکام کوششوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پراپرٹی ویلیو ایشن کے ٹیبل کو ریوائز (تبدیل) کرنے کی کوشش کی۔ تاجر برادری کو ٹیکس نیٹ میں لا کر رجسٹرڈ کرنے کا عزم کیا۔ بینکوں کی ٹرانزیکشنز کو ریونیو کے ساتھ ریلیٹ (منسلک) کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے ایف بی آر میں موجود کرپشن اور کاہلی کے خاتمے کے لیے 10 سے 15 ہزار غیر ضروری ملازمین کو فارغ کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ وہ گھر بیٹھیں، لیکن یہ سب کچھ نہیں ہونے دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان کوششوں کو ناکام بنایا گیا تو ان کے اہلخانہ نے انہیں عہدہ چھوڑ کر کراچی واپس آنے کا مشورہ دیا۔
شبر زیدی نے مزید کہا کہ اگرچہ عمران خان نے ان پر واپس آنے کے لیے بہت دباؤ ڈالا اور ان کے کہنے پر وہ ایک بار واپس آئے بھی، لیکن ایف بی آر میں دوبارہ وہی پرانا نظام دیکھ کر ان کی طبیعت مزید خراب ہو گئی اور وہ مستقل کراچی لوٹ آئے۔ شبر زیدی نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی ایف بی آر سے باقاعدہ استعفیٰ نہیں دیا۔
باجوہ اور عمران خان کی سپورٹ اور نظام کا کھوکھلا پن
معاشی اصلاحات کے اس پورے پس منظر میں شبر زیدی نے انکشاف کیا کہ عمران خان اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ انہیں مکمل سپورٹ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طرف سے انہیں جتنی سپورٹ حاصل تھی، شاید ہی کسی اور چیئرمین کو ملی ہو۔
لیکن اس سپورٹ کے باوجود کوئی تبدیلی نہ آنے کی وجہ بتاتے ہوئے شبر زیدی نے ایک متنازع اور بڑا دعویٰ کیا کہ عمران خان چاہتے تھے کہ سسٹم خراب رہے‘۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی حکمران اقتدار میں آتا ہے، وہ بڑے بڑے دعوے کرتا ہے کہ وہ کیش اکانومی کم کرے گا، ریئل اسٹیٹ کو درست کرے گا اور اسمگلنگ روکے گا، لیکن چند مہینوں بعد وہ خود اس گندے نظام کا حصہ بن جاتا ہے یا اسے بنا دیا جاتا ہے۔ امیر طبقے کو اسی خراب نظام میں فائدہ ہے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ یہ ایسے ہی چلتا رہے۔