مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک تباہ کن اور بڑے پیمانے کی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، جس میں غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہونے کے بعد اسرائیل اور امریکا نے ایران پر براہِ راست فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کی سنسنی خیز تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ ممکنہ مشترکہ فوجی کارروائی آئندہ ہفتے کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے، جس کے بعد پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔
حملے کی حکمتِ عملی اور خوفناک ممکنہ آپشنز
رپورٹس میں اعلیٰ امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اس وقت ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے شدید، منظم اور ہولناک ترین فوجی کارروائی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
عسکری ذرائع کے مطابق اس ممکنہ حملے کے لیے 3 بڑے آپریشنل آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے جن میں ایک شدید فضائی بمباری شامل ہے، ایران کے تمام اسٹریٹجک فوجی اڈوں، فضائی دفاعی نظام اور اہم ترین انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) پر تباہ کن اور مسلسل بمباری کی جائے گی۔
دوسرے نمبر پر معاشی ناکہ بندی اور قبضہ جاری رکھا جائے، خلیج فارس میں واقع ایران کے سب سے بڑے اور اہم ترین تیل برآمدی مرکز ’خارگ آئی لینڈ‘ پر بحری اور فضائی فوج کے ذریعے قبضہ کیا جائے گا تاکہ ایران کی معیشت کی کمر توڑی جا سکے۔
تیسرا یہ کہ جوہری مراکز پر کمانڈو ایکشن کیا جائے اور ایران کے خفیہ اور زمین دوز جوہری مراکز سے حساس جوہری مواد کو نکالنے یا انہیں تباہ کرنے کے لیے خصوصی کمانڈوز فورسز کی زمین پر تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔
سفارتکاری کی ناکامی اور اسرائیل کا جنگی جنون
اس انتہائی خطرناک صورتحال کا پس منظر گزشتہ کئی ماہ سے جاری امریکا ایران جوہری مذاکرات کی ناکامی سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہ کرنے اور علاقائی اثر و رسوخ کو کم نہ کرنے کے سخت مؤقف کے بعد سفارتی راہیں مسدود ہو گئیں۔
ادھر ایک سینیئر اسرائیلی عہدیدار نے اسرائیلی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کھلم کھلا دھمکی دی ہے کہ اسرائیل اس وقت فوری اور ہمہ جہت جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار کھڑا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ان کی فوجیں الرٹ پر ہیں اور وہ اس وقت صرف امریکی صدر کے حتمی فیصلے اور گرین سگنل کا انتظار کر رہے ہیں، جیسے ہی وائٹ ہاؤس سے باقاعدہ منظوری ملے گی، کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔
عالمی معیشت اور خطے پر ممکنہ اثرات
واضح رہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے آئندہ ہفتے ایران پر حملے کا یہ مہم جوئی والا قدم اٹھایا، تو یہ تیسری جنگِ عظیم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ سب سے بڑا دھچکا عالمی معیشت کو لگے گا، کیونکہ خلیج فارس اور خارگ آئی لینڈ پر حملے کی صورت میں دنیا بھر کے لیے تیل کی سپلائی لائن مکمل طور پر بند ہو جائے گی، جس سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں سیکنڈوں میں آسمان کو چھونے لگیں گی۔
مزید برآں ایران بھی خاموش نہیں بیٹھے گا، اس کے پاس موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیج میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں موجود دیگر ممالک کو بھی اس جنگ کی لپیٹ میں لے لے گی، جس کا نقصان پوری انسانیت کو اٹھانا پڑے گا۔