ملک میں 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق بڑا دعویٰ سامنے آگیا،سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی

ملک میں 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق بڑا دعویٰ سامنے آگیا،سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی

ملک میں 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق بڑا سیاسی دعویٰ سامنے آگیا ہے جہاں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم آئندہ بجٹ سے پہلے لائی جا سکتی ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے انکشاف کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے فوراً بعد ہی ایم کیو ایم کو عندیہ دے دیا گیا تھا کہ ملک میں 28ویں ترمیم لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مجوزہ ترمیم میں بلدیاتی نظام سے متعلق آئینی اصلاحات کو بھی شامل کیا جائے گا۔

ایم کیو ایم رہنما کے مطابق آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات، مالی وسائل اور آئینی تحفظ دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر این ایف سی ایوارڈ کے معاملات میں بھی صوبوں اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں توسیع کی گئی تو ایم کیو ایم اس ترمیم کی مکمل حمایت کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پٹرول اور مہنگائی پر خطرے کی گھنٹی، وزارت خزانہ کی رپورٹ نے تشویش بڑھا دی

فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں بلدیاتی ترمیم کے حق میں ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اس حوالے سے پہلے ہی معاہدے پر دستخط کر چکی ہے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی خودمختاری کی بات کرنے والوں کو نچلی سطح پر اختیارات منتقل کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ اگر بلدیاتی ترمیم کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو آئین کے آرٹیکل 49 کے تحت بعض علاقوں میں نئے انتظامی یونٹس کیلئے ریفرنڈم کی راہ بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔

editor

Related Articles