قومی اسمبلی میں وزارتِ خزانہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے متعلق تشویشناک رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں معیشت پر ممکنہ دباؤ کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث پاکستان کی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
حکومت نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں اور وزیراعظم کی ہدایت پر پٹرولیم کی روزانہ فراہمی کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اس کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سپلائی چین میں کسی بھی خلل کو روکنے اضافی کارگو کی دستیابی اور ایندھن کی بچت کے اقدامات کو یقینی بنائے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے قبل اہم اقتصادی فیصلوں کے لیے اے پی سی سی اور این ای سی کے اجلاس بلائے جائیں گے جن میں ملک کے میکرو اکنامک فریم ورک پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک پٹرولیم لیوی کی مد میں 1,342 ارب روپے جمع کیے گئے ہیں جو مختلف فلاحی منصوبوں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت دیگر سماجی اسکیموں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔