باؤباب درخت کا حیران کن راز، جو صحراؤں میں بھی زندگی بانٹتا ہے

باؤباب درخت کا حیران کن راز، جو صحراؤں میں بھی زندگی بانٹتا ہے

افریقہ کے گرم اور خشک علاقوں میں ایک ایسا حیرت انگیز درخت پایا جاتا ہے جسے ’’ٹری آف لائف‘‘ یعنی زندگی کا درخت کہا جاتا ہے۔ یہ درخت باؤباب (Baobab) کے نام سے مشہور ہے اور اپنی غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔

باؤباب درخت ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتا ہے اور اس کی اونچائی تقریباً 30 فٹ تک پہنچ جاتی ہے، لیکن اس کی سب سے حیران کن صلاحیت اس کے موٹے اور اسفنج جیسے تنے میں چھپی ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ درخت اپنے اندر تقریباً 32 ہزار گیلن تک پانی محفوظ کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :انڈونیشیا کے قبیلے میں نیلی آنکھوں کا انوکھا راز، سائنسدان بھی حیران

افریقہ کے وہ علاقے جہاں طویل خشک سالی معمول کی بات ہے، وہاں یہ درخت قدرتی پانی کے ذخیرے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں اور جانوروں دونوں کیلئے یہ زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :انسانی دماغ جیسی سوچنے والی ڈیوائس تیار،نئی ایجاد نے دنیا کو چونکا دیا

باؤباب صرف پانی ذخیرہ نہیں کرتا بلکہ اس کا ہر حصہ کسی نہ کسی شکل میں فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس کا پھل، جسے ’’منکی بریڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، وٹامن سی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صحت اور خوبصورتی کیلئے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ درخت کی چھال سے رسیاں بنائی جاتی ہیں، پتوں کو روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق باؤباب درخت صرف ایک پودا نہیں بلکہ ایک مکمل قدرتی نظام ہے جو خوراک، پانی، دوا اور پناہ جیسی بنیادی ضروریات پوری کرتا ہے۔سخت موسمی حالات میں کھڑا یہ درخت قدرت کی طاقت، برداشت اور بقا کی ایک حیرت انگیز مثال سمجھا جاتا ہے۔

editor

Related Articles