پاکستانی حدود اور خودمختاری کے خلاف ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر بھارتی عسکری قیادت کی حالیہ ہرزہ سرائی اور گیدڑ بھبکیوں پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے انتہائی سخت اور کرّارا سیاسی و دفاعی جواب سامنے آیا ہے۔
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے روایتی، بے باک اور جارحانہ انداز میں انتہا پسند مودی سرکار کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے ایسی وارننگ جاری کر دی ہے جس نے نئی دہلی کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
وزیرِ دفاع کی مودی سرکار اور بھارتی آرمی چیف کو کھلی وارننگ
بھارتی آرمی چیف کے پاکستان کے جغرافیے اور تاریخ سے متعلق دیے گئے غیر ذمہ دارانہ بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اپنی اوقات سے بڑھ کر بات نہ کرے۔
انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر مودی سرکار کے آرمی چیف یا ان کی انتہا پسند فوج نے پاکستان کے خلاف دوبارہ کسی بھی قسم کا پنگا لینے، مہم جوئی کرنے یا سرحدی جارحیت کی ناپاک کوشش کی، تو اس بار پاکستان کا فوجی ردِعمل ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہولناک، تیز اور فیصلہ کن ہوگا۔
انہوں نے بھارت کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ’بھارت دنیا کے موجودہ جغرافیے سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گا اور اس کا وجود صرف اور صرف تاریخ کی پرانی اور بوسیدہ کتابوں میں ہی رہ جائے گا‘۔
فروری اور مئی کا سرپرائز اور انتخابی سیاست
خواجہ آصف کا یہ جارحانہ بیان اس پس منظر میں آیا ہے جہاں بھارت کی موجودہ انتہا پسند قیادت اپنی اندرونی سیاسی ناکامیوں اور معاشی بحرانوں سے ہندو ووٹرز کی توجہ ہٹانے کے لیے مسلسل پاکستان مخالف بیانیے کا سہارا لے رہی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت شاید فروری 2019 کا وہ تاریخی دن بھول چکا ہے جب اس نے بالاکوٹ میں مہم جوئی کی ناکام کوشش کی تھی اور اگلے ہی دن پاک فضائیہ نے دن دیہاڑے آپریشن ’اسپیفٹ ریٹارٹ‘ کے ذریعے نہ صرف دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے بلکہ ان کے مایہ ناز پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر کے چائے کی پیالی پلا کر واپس بھیجا تھا۔
اسی طرح مئی 2025 میں معرکہ حق کی عبرتناک شکست کے زخم بھی بھارت کے لیے ابھی کل کی بات ہے، خواجہ آصف نے اسی تاریخی دفاعی برتری کے تناظر میں مودی حکومت کو یاد دلایا ہے کہ پاکستان ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے اور اس کے دفاعی صلاحیتوں کو کم تر سمجھنا بھارت کی تاریخی بھول ہوگی۔
جارحانہ سفارتکاری اور دفاعی توازن
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا یہ دوٹوک اور غیر لچکدار مؤقف پاکستان کی ’جارحانہ دفاعی حکمتِ عملی‘ (افینسیو ڈیفنس سٹریٹجی) کا عکاس ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب آئی ایس پی آر نے عسکری اور شرعی محاذ پر بھارتی آرمی چیف کو لاجواب کیا، تو وزیرِ دفاع کے اس سیاسی بیان نے اس سٹریٹجک جواب کو مکمل کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی ایشیا میں ایٹمی توازنِ طاقت (نیوکلیئر ڈیٹرنس) کی موجودگی میں بھارتی جرنیلوں کا ایسے بیانات دینا خطے کو ایک ہولناک ایٹمی جنگ کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
خواجہ آصف نے بھارتی بقا کو تاریخ کی کتابوں سے مشروط کر کے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر نئی دہلی نے پہلگام فالس فلیگ، پلوامہ یا بالاکوٹ جیسے ڈرامے دوبارہ رچانے کی کوشش کی تو اس بار جنگ کا دائرہ کار صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے برصغیر کے جغرافیے کو بدل کر رکھ دے گا۔