مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلیٰ سطح کی عسکری و سیاسی مشاورت کا عمل انتہائی تیز کر دیا ہے، جس سے خطے میں بڑے پیمانے کی جنگ کا خطرہ سچ ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ایک انتہائی اہم اور طویل ٹیلی فونک گفتگو کی ہے، جس میں ایران پر آئندہ ہفتے متوقع حملے کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
اس اہم رابطے سے محض 1 روز قبل امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے کلیدی ارکان کے ساتھ بھی ایک ہنگامی بیٹھک کی تھی، جس میں جنگی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔
ہنگامی اجلاس اور پنٹاگون کی نئی منصوبہ بندی
میڈیا رپورٹ کے مطابق معاملے سے باخبر باثوق ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے کو سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسٹرٹیجک تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اس ہفتے کے اوائل میں ہی دوبارہ اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ایک اور اہم ترین ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ اس ملاقات میں حملے کے حتمی وقت (ٹائمنگ) کی منظوری دیے جانے کا قوی امکان ہے۔
دوسری جانب معروف امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوتا ہے، تو امریکی محکمہ دفاع ’پنٹاگون‘ نے اس بار صرف روایتی فوجی اڈوں تک محدود نہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنٹاگون نے ایران کو معاشی اور اسٹرٹیجک طور پر مفلوج کرنے کے لیے اس کے درج ذیل اہم ترین اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل منصوبہ بندی کر لی ہے
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کے تمام بڑے توانائی کے مراکز اور پٹرولیم تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، ملک کا مرکزی بجلی کا گرڈ اور کمیونیکیشن انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) نشانے پر ہو گا، خلیج فارس میں واقع اہم بندرگاہیں اور لاجسٹک سپلائی لائنز بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔
خارگ آئی لینڈ پر قبضے کی دھمکی اور یو اے ای پر حالیہ حملہ
اس انتہائی کشیدہ صورتحال کا پس منظر گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی تیز رفتار سفارتی اور عسکری تبدیلیوں سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری اور علاقائی معاملات پر جاری مذاکرات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو چکے ہیں، جس کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب نے سفارتکاری کا باب بند کر کے فوجی راستے کا انتخاب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس سے قبل یہ رپورٹس بھی سامنے آ چکی ہیں کہ امریکی و اسرائیلی کمانڈوز ایران کے سب سے بڑے اور اہم ترین تیل برآمدی مرکز ’خارگ آئی لینڈ‘ پر بحری و فضائی آپریشن کے ذریعے قبضہ کرنے اور ایران کے خفیہ جوہری مراکز پر گراؤنڈ ایکشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر ہونے والے حالیہ حملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا، جس کے بعد پنٹاگون نے ایران کے خلاف اپنے اہداف کی فہرست کو مزید وسعت دے کر اس میں توانائی کے بڑے مراکز کو بھی شامل کر لیا ہے۔
امریکا اسرائیل اتحاد اور عالمی معیشت پر اثرات
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اتوار کو ہونے والا حالیہ رابطہ اس بات کی گواہی ہے کہ دونوں ممالک ایران کے خلاف ایک ہی صفحے پر آ چکے ہیں اور اسرائیل کو اس مہم جوئی کے لیے وائٹ ہاؤس کی جانب سے مکمل گرین سگنل ملنے والا ہے۔ اسرائیل کی عسکری قیادت پہلے ہی یہ بیان دے چکی ہے کہ وہ فوری جنگ کے لیے سو فیصد تیار کھڑی ہے۔
تاہم پنٹاگون کی جانب سے ایران کے توانائی کے شعبے اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی یہ نئی حکمتِ عملی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران کا توانائی کا ڈھانچہ تباہ ہونے کی صورت میں تہران کا ردِعمل محض دفاعی نہیں ہوگا، بلکہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر کے عالمی مارکیٹ کے لیے روزانہ کروڑوں بیرل تیل کی سپلائی روک دے گا۔
اس کے علاوہ ایران کے پاس موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کے چپے چپے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر یہ جنگ شروع ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں (جو پہلے ہی 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں) قابو سے باہر ہو جائیں گی، جو دنیا کو ایک طویل معاشی کساد بازاری اور تیسری جنگِ عظیم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔