سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے سابق چیف محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کھلا ہے، لیکن یہ راستہ لشکر کشی اور بدامنی پھیلانے والوں کے لیے بالکل نہیں ہے۔
محسن رضائی نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ایک وقت تھا جب امریکا نے سوویت یونین کے خلاف خطے میں اپنے بحری بیڑے بھیجے تھے، لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا اب کس کے خلاف بحری بیڑے بھیج رہا ہے اور اس کا اصل دشمن کون ہے؟
انہوں نے واضح کیا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم امریکا خطے کے دوسرے ممالک کو ایران سے ڈرانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے اور غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ ٹرمپ کے مطابق چینی صدر نے کہا ہے کہ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایران ایٹم بم نہ بنائے۔
اس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ میں پوچھتا ہوں ایران نے کب کہا ہے کہ ہم ایٹم بم بنانا چاہتے ہیں؟ امریکا اور اسرائیل کے علاوہ دنیا میں اور کون ہے جو یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ ایران ایٹم بم بنانا چاہتا ہے؟ محسن رضائی نے کہا کہ ایران سفارت کاری کے لیے سنجیدہ ہے ، میدان جنگ اور دفاع کے معاملے میں اس سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے، اس بار امریکا سے مذاکرات کیے مگر ہر بار امریکا نے وعدے توڑے، امریکا اگر وہ واقعی مذاکرات چاہتا ہے تو اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات کرے۔