مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی بانڈ مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ کے باعث امریکی ڈالر نے پیر کے روز بیشتر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی جبکہ جاپانی ین کی مسلسل کمزوری نے ممکنہ حکومتی مداخلت کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کا رجحان نسبتاً محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھنے کے باعث ڈالر کو تقویت ملی۔ مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق یورو 1.1609 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3305 ڈالر کی سطح پر رہا دونوں کرنسیوں میں 0.1 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح آسٹریلوی ڈالر 0.4 فیصد کمی کے بعد 0.7121 ڈالر تک گر گیا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.5827 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔
ڈالر انڈیکس جو بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی مجموعی طاقت کو ظاہر کرتا ہے معمولی اضافے کے ساتھ 99.393 تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش نے امریکی کرنسی کو سہارا فراہم کیا۔
دوسری جانب عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پلانٹ پر حملے کی اطلاعات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈ مارکیٹ میں فروخت کے رجحان اور بلند شرح منافع نے خطرناک اثاثوں کی کشش کم کر دی ہے جس کے باعث سرمایہ کار اسٹاک اور دیگر پرخطر سرمایہ کاری سے نکل کر امریکی ڈالر کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار بھی ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 4.607 فیصد جبکہ 2 سالہ بانڈ کی ییلڈ 4.085 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
کرنسی مارکیٹ میں جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر 158.84 پر ٹریڈ ہوا جبکہ چینی آف شور یوآن 6.8163 کی سطح پر رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں اور بانڈ ییلڈز بلند رہتی ہیں تو آنے والے دنوں میں ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔