نائجن اور فاتو,دنیا کے آخری شمالی سفید گینڈےکو بچانے کی جنگ

نائجن اور فاتو,دنیا کے آخری شمالی سفید گینڈےکو بچانے کی جنگ

دنیا کے شمالی سفید گینڈے کی ذیلی نسل اب عملی طور پر معدوم ہو چکی ہےاور پوری دنیا میں صرف دو ہی افراد زندہ بچے ہیں، دونوں مادہ ہیں۔ 

یہ دونوں بچ جانے والے گینڈے، نائجن اور فاتو، اس وقت کینیا کے ایک محفوظ مقام پر سخت مسلح نگرانی میں رہ رہے ہیں۔ یہ حفاظت اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ برسوں تک غیر قانونی شکار، جنگلی حیات کی اسمگلنگ اور قدرتی مسکن کی تباہی نے اس نسل کو تقریباً ختم کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں :درخت کا حیران کن دفاعی نظام،، نئی تحقیق نے حیران کردیا

2018 میں اس نسل کے آخری نر گینڈے کی موت نے جدید دور کی جنگلی حیات کے تحفظ کی تاریخ میں ایک انتہائی دردناک لمحہ پیدا کیا۔اب سائنسدان وقت کے خلاف ایک غیر معمولی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس نسل کو مکمل طور پر ختم ہونے سے بچایا جا سکے۔

ماہرین جدید آئی وی ایف تکنیک، مرے ہوئے نر گینڈوں کے محفوظ کیے گئے جینیاتی مواد، اسٹیم سیل سائنس اور ایمبریو ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ کسی قریبی نسل کے گینڈوں کو بطور سروگیٹ استعمال کرتے ہوئے دوبارہ بچے پیدا کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں :درخت کا حیران کن دفاعی نظام،، نئی تحقیق نے حیران کردیا

تحفظِ جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک واضح تنبیہ ہے کہ انسانی سرگرمیاں کس طرح پوری پوری نسلوں کو ہمیشہ کے لیے زمین سے مٹا سکتی ہیں۔

دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نائجن اور فاتو کی کہانی صرف ایک نسل کی بقا کی جنگ نہیں بلکہ فطرت کے ناقابل تلافی نقصان اور انسان کی آخری کوشش کی علامت بن چکی ہے۔

اگر یہ سائنسی کوششیں ناکام ہو گئیں تو شمالی سفید گینڈا ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا اور ایک ایسی نسل مٹ جائے گی جو لاکھوں سال سے زمین پر زندہ تھی۔

editor

Related Articles