راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس اچانک بند ہونے سے ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے سروس کی بندش ملازمین کی برطرفیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے باعث ہوئی جس نے روزمرہ سفر کرنے والے شہریوں کا نظام درہم برہم کر دیا۔
ملازمین کی بڑی تعداد نے میٹرو ٹریک پر دھرنا دے کر بسوں کی آمد و رفت مکمل طور پر روک دی احتجاج میں خواتین ملازمین بھی شامل تھیں جنہوں نے حکومت کے فیصلے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور برطرفیوں کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے کنٹریکٹس 2027 تک مؤثر تھے اس کے باوجود انہیں ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا ان کے مطابق گزشتہ دو ماہ کی تنخواہیں بھی تاحال ادا نہیں کی گئیں جس سے ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ میٹرو بس سروس کا ٹھیکہ ایک نئی کمپنی کو دینے کے بعد موجودہ عملے کو فارغ کیا جا رہا ہے جو کہ ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے۔
صورتحال کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کا اہم نظام معطل ہو گیا جس سے دفاتر تعلیمی اداروں اور دیگر روزمرہ سرگرمیوں کے لیے سفر کرنے والے شہریوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ملازمین نے حکومت اور بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، برطرف ملازمین کو بحال کریں اور ان کے واجبات کی ادائیگی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کا فوری حل نکالا جائے تاکہ معمولات زندگی متاثر نہ ہوں اور نظامِ آمد و رفت بحال کیا جا سکے۔