پاکستان نے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ہونے والے مبینہ ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ حملہ مبینہ طور پر 17 مئی کو کیا گیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق جوہری تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تحت جوہری تحفظ اور سلامتی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے‘، کیونکہ ایسے اقدامات انسانی جانوں، ماحولیات اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ’تباہ کن اور ناقابلِ تلافی نتائج‘ کا باعث بن سکتے ہیں۔
پاکستان نے زور دیا کہ شہری جوہری تنصیبات کا تحفظ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی اصول ہے جس کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری ہی خطے میں دیرپا امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کا واحد مؤثر راستہ ہیں۔