برطانیہ کی معروف یونیورسٹی یونیورسٹی آف ایکسیٹر نے اپنی نوعیت کا پہلا پوسٹ گریجویٹ پروگرام شروع کیا ہے جس کا عنوان جادو اور مخفی علوم(Magic and Occult Sciences)رکھا گیا ہے۔ اس پروگرام کی پہلی کلاس ستمبر 2024 سے شروع ہوگی۔
یہ ایم اے پروگرام کالج آف ہیومینٹیز کے تحت پیش کیا جا رہا ہے اور اس میں تاریخ، آثارِ قدیمہ، سماجیات، فلسفہ اور مذہبی علوم جیسے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ جادو، جادوگری، اور مخفی روایات کے تاریخی اور ثقافتی اثرات کا مطالعہ کیا جا سکے۔
یونیورسٹی کے مطابق اس کورس کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ یہ روایات مغربی اور عالمی تہذیبوں میں سائنس، طب، صنفی سیاست اور نوآبادیاتی تاریخ پر کس طرح اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔
یہ اقدام ایک بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کی عکاسی بھی کرتا ہے، جہاں نوجوانوں میں ٹیرو کارڈز، علمِ نجوم، کرسٹل اور دیگر روحانی یا روایتی عقائد میں دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق گزشتہ دہائی میں اس رجحان میں واضح اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایک 2022 کی پیو ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 30 فیصد امریکی بالغ افراد علمِ نجوم پر یقین رکھتے ہیں۔
اس پروگرام کی سربراہ پروفیسرامیلی سیلوو کے مطابق یہ کورس طلبہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ ان موضوعات کا سائنسی اور تحقیقی انداز میں مطالعہ کیا جا سکے۔