خیبر پختونخوا میں جاری سنگین اسٹریٹ کرائمز، بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور شدید معاشی بحران پر صوبائی حکومت کی عدم توجہی کے خلاف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر ویمن ونگ نورالعین خالق نے صوبے کی موجودہ نازک صورتحال اور مخدوش انتظامی ڈھانچے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی ترجیحات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے ایک اہم اور تفصیلی بیان میں نورالعین خالق نے واضح الفاظ میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں اور عوام کا یہ گلہ 100 فیصد بجا اور حقیقت پر مبنی ہے کہ انہیں اس وقت اپنے مسائل حل کرنے والا ایک ’فل ٹائم‘ وزیراعلیٰ چاہیے، نہ کہ راولپنڈی یا اڈیالہ جیل کا مسلسل طواف کرنے والا کوئی سیاسی نمائندہ چاہیے۔
انہوں نے حکومت کو جنجھوڑتے ہوئے کہا کہ ساڑھے چار کروڑ عوام کی زندگیوں کو سیاسی مفادات کی نذر نہیں کیا جا سکتا اور اب وقت آ گیا ہے کہ پشاور کے حکمران ہوش کے ناخن لیں۔
ساڑھے چار کروڑ عوام کا مستقبل
خیبر پختونخوا کے تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ (ساڑھے چار کروڑ) کی آبادی اس وقت مکمل طور پر انتظامی خلا کا شکار ہے، کیونکہ صوبے کی باگ ڈور جن کے ہاتھ میں ہے، وہ پشاور سے غائب ہیں۔
ترجیحات میں تبدیلی کا مطالبہ
صدر ویمن ونگ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی اولین اور واحد ترجیح صوبے میں امن و امان کا قیام اور پشاور سمیت دیگر تمام متاثرہ اضلاع میں خود موجود رہنا ہونا چاہیے، نہ کہ راولپنڈی کی سڑکوں پر احتجاج منظم کرنا ان کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
گورننس اور معاشی تباہی
صوبے میں گورننس (طرزِ حکومت) کے ہولناک ایشوز جوں کے توں برقرار ہیں، ترقیاتی منصوبے 0 فیصد پر آ چکے ہیں اور معاشی تباہی نے صوبے کے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تر سیاسی وابستگیوں اور جماعت بازی کو ایک طرف (سائیڈ پر) رکھ کر، صوبائی سیکیورٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھایا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر گرینڈ سیکیورٹی پلان تشکیل دیا جائے۔
وفاق سے سیاسی جنگ اور کے پی سیکرٹریٹ کی تالا بندی
اس تند و تیز بیان کا پس منظر خیبر پختونخوا حکومت کے کا وفاقی حکومت کے خلاف محاذ آرائی والی کیفیت اور صوبائی قیادت کی جانب سے پشاور کے انتظامی امور کو یکسر نظرانداز کرنے سے جڑا ہوا ہے۔
جب سے محمد سہیل خان آفریدی نے صوبے کے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے، خیبر پختونخوا کا سرکاری انفراسٹرکچر پشاور کے بجائے اسلام آباد اور اڈیالہ جیل کے گرد گھومتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
تاریخی طور پر دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اس صوبے کو اس وقت ایک ایسے قائد کی ضرورت ہے جو روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ اجلاس کرے، پولیس فورس کا حوصلہ بڑھائے اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے معاشی اصلاحات نافذ کرے۔
تاہم عملاً صورتحال یہ ہے کہ پشاور کا سول سیکرٹریٹ اور اہم وزارتیں وزرا کی عدم موجودگی کے باعث سنسان پڑی ہیں، جس کی وجہ سے بیوروکریسی بھی مفلوج ہو چکی ہے اور فائلیں مہینوں سے التوا کا شکار ہیں۔
عوامی حق، پولیٹکس اور ہمہ جہت آپریشنز کا خلا
واضح رہے کہ صدر ویمن ونگ نورالعین خالق کا یہ نپا تلا بیان خیبر پختونخوا کی اندرونی سیاست میں ایک بڑے سیاسی بگاڑ اور عوامی لاچاری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو چند اہم پہلو واضح ہو جاتے ہیں۔
سیاست بمقابلہ عوامی امور
جیسا کہ نورالعین خالق نے بالکل درست اشارہ کیا کہ ’پولیٹکس اپنی جگہ پر، لیکن عوامی امور اپنی جگہ پر اور یہ کے پی کے عوام کا حق ہے‘۔
جمہوریت میں سیاسی جماعتیں اپنے قائدین کے تحفظ کے لیے احتجاج کا حق ضرور رکھتی ہیں، لیکن جب احتجاج کی قیمت عوام کو اپنی جان و مال اور امن کی صورت میں چکانی پڑے، تو وہ حکومت اپنی اخلاقی اور قانونی حیثیت کھو دیتی ہے۔
وزیراعلیٰ کا پشاور میں موجود نہ ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست کرنے کا سبب بن رہا ہے، جس کا فائدہ براہِ راست دہشتگرد اور کرائم مافیا اٹھا رہے ہیں۔
تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملانے کی ضرورت
خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی چیلنجز اتنے پیچیدہ ہیں کہ انہیں کوئی بھی صوبائی حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے وفاقی حکومت، پاک فوج، فرنٹیئر کونسٹیبلری اور مقامی جرگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔
لیکن موجودہ صوبائی قیادت کا رویہ مکمل طور پر محاذ آرائی پر مبنی ہے، جس کی وجہ سے مرکز اور صوبے کے درمیان سیکیورٹی کوآرڈینیشن (تعاون) کا شدید خلا پیدا ہو چکا ہے۔ جب تک وزیراعلیٰ اپنی ضد چھوڑ کر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، تب تک پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔