عوامی مسائل سے چشم پوشی اور ’چلو چلو اڈیالہ چلو‘ کے بیانیہ سے تنگ خیبر پختونخوا کے عوام سہیل آفریدی پر برس پڑے

عوامی مسائل سے چشم پوشی اور ’چلو چلو اڈیالہ چلو‘ کے بیانیہ سے تنگ خیبر پختونخوا کے عوام سہیل آفریدی پر برس پڑے

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی نئی لہر، معاشی کمزوری اور انتظامی عدم توجہی کے خلاف صوبے کے مختلف اضلاع میں عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

پشاور، بنوں، لکی مروت، کوہاٹ، صوابی اور لوئر دیر کے شہریوں نے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔

ایک سروے کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والے تاثرات کے مطابق صوبے میں اس وقت گڈ گورننس (بہترین طرزِ حکومت) کا نام و نشان تک نہیں ہے اور جرائم پیشہ عناصر سرعام دندناتے پھر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورننس نام کی چیز نہیں۔ کرپشن اور بد عنوانی عروج پر ہے، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ

شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے کے انتظامی سربراہ سہیل خان آفریدی عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں اور وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے چکر لگانے اور سیاسی جوڑ توڑ میں صرف کر رہے ہیں، جس سے صوبہ لاوارث ہو چکا ہے۔

مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بزرگ شہریوں اور نوجوانوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں صوبائی حکومت کی ترجیحات پر کئی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

اضلاع کی سیکیورٹی اور عوامی شکایات

صوبے کے طول و عرض سے سامنے آنے والے عوامی سروے اور شکایات دوران ان اضلاع کے عوام نے شکایت کی کہ یہاں امن و امان کی صورتحال 100 فیصد دباؤ کا شکار ہے۔ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں نے مقامی تاجروں اور شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔

پشاور میں اسٹریٹ کرائمز

صوبائی دارالحکومت پشاور کے بزرگ شہریوں کے مطابق، شہر کے پوش اور تجارتی علاقوں میں دن دیہاڑے اسمارٹ فونز، نقدی اور قیمتی موٹر سائیکلیں چھیننے کی وارداتوں میں 60 فیصد سے زیادہ کا ہولناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ پولیس کا گشت نہ ہونے کے برابر ہے۔

زیرو کارکردگی کا دعویٰ

کوہاٹ کے شہریوں نے وزیراعلیٰ کے ’عوامی وزیراعلیٰ‘  ہونے کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سڑک پر نکل کر دیکھا جائے تو ترقیاتی کاموں کا حجم بالکل ’زیرو‘ہے جبکہ سیکیورٹی کی صورت حال ایسی ہے کہ باہر نکلتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ کے سامنے صرف عمران خان کی رہائی کا ایجنڈا

صوابی اور لوئر دیر کے عوام کی گفتگو کے مطابق وزارتِ اعلیٰ کے منصب کا بنیادی مقصد 4 کروڑ سے زیادہ کی صوبائی آبادی کی خدمت ہونا چاہیے تھا، لیکن موجودہ حکومت کا پورا ڈھانچہ صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے یک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔

علی امین گنڈاپور کی تبدیلی سے لے کر ’اڈیالہ یاترا‘ تک

اس شدید عوامی ردعمل کا پس منظر صوبے کی حالیہ سیاسی تبدیلیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اکتوبر 2025 میں بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر علی امین گنڈاپور کی جگہ محمد سہیل خان آفریدی کو صوبے کا 19 واں وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا تھا۔

جنہوں نے 15 اکتوبر 2025 کو اپنے منصب کا حلف اٹھایا۔ حلف اٹھانے کے اگلے ہی دن یعنی 16 اکتوبر کو انہوں نے باقاعدہ مراسلہ جاری کر کے اڈیالہ جیل کا رخ کیا تھا۔

تبدیلیِ حکومت کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئے وزیراعلیٰ نوجوان ہیں اور وہ صوبے کے معاشی و انتظامی معاملات کو بہتر کریں گے، لیکن عملاً ایسا نہ ہو سکا۔

گزشتہ کئی مہینوں سے خیبر پختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر اور صوبائی وزرا کا وفد پشاور کے بجائے اسلام آباد اور راولپنڈی کے چکر کاٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

صوبے کے کسان جہاں مہنگائی اور زرعی بحران سے پریشان ہیں، وہیں سیکیورٹی فورسز اور پولیس لائنز پر دہشتگردوں کے پے در پے حملوں نے سیکیورٹی کے سنگین خلا کو جنم دیا ہے۔

عوام کا ماننا ہے کہ جب تک صوبے کا چیف ایگزیکٹو پشاور کے سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر بیوروکریسی کو کمانڈ نہیں کرے گا، تب تک انتظامی مشینری حرکت میں نہیں آ سکتی۔

معاشی کمزوری، عیاشیاں اور ’ففتھ جنریشن‘ عوامی ردعمل

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے غیور عوام کا اپنی ہی منتخب کردہ حکومت کے خلاف اس طرح سڑکوں پر نکلنا اور میڈیا پر پھٹ پڑنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب ’سیاسی بیانیے‘ اور ’عوامی ضروریات‘ کے درمیان خلیج بہت وسیع ہو چکی ہے۔ اس نازک

انتظامی خلا اور کرائم مافیا کا عروج

جب کسی صوبے کی پوری کابینہ اور وزیراعلیٰ کا نعرہ صرف ’چلو چلو اڈیالہ چلو‘ بن جائے، تو پولیس اور انتظامیہ خود کو جوابدہ نہیں سمجھتی۔ لکی مروت، بنوں اور کوہاٹ جیسے حساس اضلاع جو پہلے ہی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر رہے ہیں، وہاں اس وقت صوبائی حکومت کی گرفت کمزور ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ کرائم کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ شرپسندوں کو حکومت کی سیاسی مصروفیت کا پورا فائدہ مل رہا ہے۔

معاشی دیوالیہ پن اور شاہانہ اخراجات

لوئر دیر کے عوام کے نمائندے ظفر علی شاہ کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اس وقت شدید معاشی کمزوری (مالیاتی خسارے) کا شکار ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کے لیے فنڈز کی قلت ہے، لیکن دوسری طرف وزیراعلیٰ اور ان کے پروٹوکول پر ہونے والے شاہانہ اخراجات اور عیاشیاں عروج پر ہیں۔

مزید پڑھیں:کے پی کے میں بارشوں نے تباہی مچا دی،30 اموات، 85 زخمی،متاثرین امداد کے منتظر، حکومتی دعوے ہوا ہو گئے

ترقیاتی فنڈز منجمد ہونے کی وجہ سے سڑکیں، اسپتال اور اسکول زبوں حالی کا شکار ہیں، جس نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان کی فلاح پر خرچ نہیں ہو رہا۔

سیاسی نقصان کا خطرہ

پی ٹی آئی کے اس روایتی گڑھ میں اگر عوام کی جانب سے یہ بیانیہ جڑ پکڑ گیا کہ سہیل آفریدی صرف ایک ’سیاسی مہرہ‘ ہیں جن کا کام صوبہ چلانا نہیں بلکہ وفاق کے خلاف احتجاج منظم کرنا ہے، تو آنے والے بلدیاتی یا عام انتخابات میں پارٹی کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

عوام اب کھوکھلے نعروں کے بجائے امن، سستا آٹا، اور روزگار مانگ رہے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ نے فوری طور پر اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی نہ کی اور پشاور کو اپنا مرکز نہ بنایا، تو صوبے میں امن و امان کا یہ بحران ایک بڑے سیاسی اور سماجی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Related Articles