خیبر پختونخوا کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال میں اس وقت ایک نیا بھونچال آ گیا ہے جب فتنہ الخوارج کے 2 اہم کمانڈروں کی ایک مبینہ آڈیو لیک منظرعام پر آئی ہے۔
آڈیو نے صوبے کی حکمران سیاسی جماعت اور کالعدم تنظیم کے مابین مبینہ روابط اور گٹھ جوڑ کے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
لیک ہونے والی آڈیو میں افغانستان میں روپوش خوارجی سرغنہ ’ بادشاہ ‘ اور جنوبی وزیرستان میں سرگرم خوارجی کمانڈر ’راکٹی‘ کو اہم گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
اس آڈیو لیک کے مطابق جنوبی وزیرستان میں موجود خوارجی دہشتگرد راکٹی نے خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت کے صوبائی اسمبلی کے رکن (ایم پی اے) آصف محسود کی گاڑی کو روکا، ان کی تلاشی لی اور انہیں بھتے کا پرچہ (پرچی) تھمایا۔
تاہم، جیسے ہی یہ اطلاع افغانستان میں بیٹھے خوارجی سرغنہ بادشاہ کو ملی، اس نے فوری طور پر مداخلت کی۔ بادشاہ نے راکٹی کو سخت ہدایت جاری کی کہ ’آصف محسود کو فوری طور پر جانے دیا جائے اور ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے کیونکہ وہ صوبے کی حکمران سیاسی جماعت کے بندے ہیں اور ہمارے ہمدرد ہیں‘۔
آڈیو میں افغان خوارجی سرغنہ کے حکم پر راکٹی کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ اس نے آصف محسود کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ تلاشی لینے پر ان سے معذرت بھی کر لی ہے۔
آڈیو کے مطابق فتنہ الخوارج کی قیادت نے اپنے کارندوں کو واضح احکامات دیے ہیں کہ حکمران جماعت کے اس رہنما کو اغوا یا بھتہ خوری کا نشانہ نہ بنایا جائے اور انہیں خصوصی استثنیٰ دیا جائے۔
واضح رہے کہ یہ آڈیو لیک اس تلخ اور ہولناک حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ دہشتگرد عناصر اب صوبے کی حکمران جماعت کے رہنماؤں کو اپنا خیر خواہ اور دوست تسلیم کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی مفادات یا دباؤ کے تحت جو سیاسی اور سماجی جگہ (سپیس) ان عناصر کو فراہم کی گئی، اسی کی وجہ سے اب یہ خوارج حکمران جماعت کے ارکان کو ’اپنے لوگ‘ سمجھ کر تحفظ دے رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں دہشتگردی اور سیاسی بیانیے کا ٹکراؤ
خیبر پختونخوا اور بالخصوص ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر رہے ہیں۔
دہشت گردی کی نئی لہر
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت مسلسل افغان سرزمیں کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر احتجاج کرتی رہی ہے۔
سیاسی مذاکرات کا تنازع
ماضی میں صوبے کی حکمران جماعت پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ انہوں نے دہشتگرد عناصر کے ساتھ نرم گوشہ رکھا اور صوبے میں ان کی دوبارہ آباد کاری یا مذاکرات کی وکالت کی۔
نقادوں کا ماننا ہے کہ اسی ‘نرم پالیسی’ کا فائدہ اٹھا کر ان عناصر نے دوبارہ پیر جمانے کی کوشش کی، جس کا خمیازہ اب صوبے کے عوام اور سیکیورٹی فورسز بھگت رہے ہیں۔
ریاست کے اندر ریاست کا خطرناک تصور
یہ آڈیو لیک صرف ایک ایم پی اے کو بھتے سے چھوٹ ملنے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے دور رس سیاسی اور سیکیورٹی اثرات ہیں
حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان
جب ایک منتخب عوامی نمائندے کی جان کا تحفظ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بجائے کسی دہشتگرد تنظیم کے سرغنہ کے ایک فون کال پر مشروط ہو جائے، تو وہاں ریاستی رٹ مکمل طور پر مفلوج نظر آتی ہے۔
سیاسی بلیک میلنگ یا سہولت کاری؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے خوارج کی طرف سے حکمران جماعت کے رہنما کو ’اپنا بندہ‘ قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یا تو سیاسی اشرافیہ اپنی جانیں بچانے کے لیے ان عناصر کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے، یا پھر پس پردہ کوئی ایسا معاہدہ موجود ہے جو عام عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔
سیکیورٹی فورسز کے لیے چیلنج
ایک طرف سیکیورٹی فورسز ان خوارج کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہیں، دوسری طرف سیاسی قیادت کے حوالے سے ایسی آڈیو لیکس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست کرنے اور انسداد دہشتگردی کی قومی مہم کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہیں۔