وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں گندم اور آٹے کی ترسیل کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبے کو گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی قلت یا مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وفاقی وزارت برائے قومی غذائی تحفظ نے اس سلسلے میں متعلقہ اداروں اور حکام کو ہدایت کی ہے کہ خیبرپختونخوا کو گندم اور آٹے کی سپلائی کے دوران کسی بھی سطح پر رکاوٹ، تاخیر یا غیر ضروری پابندی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خوراک کی ترسیل ایک حساس معاملہ ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی عوامی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بعض علاقوں میں سپلائی چین کے حوالے سے شکایات سامنے آ رہی تھیں۔ وفاقی حکومت نے اس صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ تمام داخلی اور بین الصوبائی راستوں پر گندم اور آٹے کی ترسیل کو آسان اور بغیر رکاوٹ بنایا جائے۔
وزارت برائے قومی غذائی تحفظ نے ایک خصوصی رابطہ نمبر بھی جاری کیا ہے جس کے ذریعے شہری، ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز گندم یا آٹے کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کی اطلاع فوری طور پر دے سکیں گے۔ یہ رابطہ واٹس ایپ نمبر کے ذریعے فعال کیا گیا ہے تاکہ شکایات کو فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچایا جا سکے اور بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور سپلائی چین کو مزید مؤثر بنانا ہے تاکہ کسی بھی علاقے میں آٹے یا گندم کی مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔ وفاقی حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ملک بھر میں خوراک کی مساوی فراہمی ریاست کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔