سوشل میڈیا پر پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا جبکہ فیک نیوز کی نشاندہی کرنے والے پلیٹ فارم آزاد فیکٹ چیک نے واضح کیا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کو سیکنڈ اسٹرائیک نیوکلیئر صلاحیت دینے سے انکار کی خبریں مکمل طور پر جھوٹ من گھڑت اور گمراہ کن ہیں۔
بھارت سے چلنے والے ایک ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین نے پاکستان کو سیکنڈ اسٹرائیک جوہری صلاحیت فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم آزاد فیکٹ چیک نے اپنی تحقیق میں اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پہلے ہی مکمل سیکنڈ اسٹرائیک نیوکلیئر صلاحیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے اس نے کبھی چین سے ایسی کسی مدد کی درخواست نہیں کی۔
سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت کسی بھی ایٹمی طاقت کی دفاعی حکمت عملی میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی ملک پر پہلا جوہری حملہ ہو بھی جائے تو وہ مؤثر جوابی کارروائی کی مکمل صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔ پاکستان برسوں سے اپنی دفاعی حکمت عملی اور میزائل پروگرام کے ذریعے یہ صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کے دفاعی معاملات سے متعلق گمراہ کن اطلاعات پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر غلط تاثر قائم کیا جا سکے۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کاروں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بھارت خود ابھی تک قابلِ اعتماد سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔ خاص طور پر بھارت کےمیزائل پروگرام کو متعدد بار آزمائشی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث اس کی جوہری دفاعی حکمت عملی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
خطے میں اس نوعیت کی غلط معلومات اور پروپیگنڈا نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر غلط فہمیاں بھی پیدا کرتا ہے اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی تصدیق انتہائی ضروری ہے۔