سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک بار پھر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ12اکست2026کو زمین پر کششِ ثقل میں کمی واقع ہوگی یا چند لمحوں کے لیے لوگ خود کو ہلکا محسوس کریں گے۔ تاہم ماہرین اور ناسا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اس تاریخ پر ایک اہم فلکیاتی واقعہ ضرور پیش آئے گا، لیکن اس کا زمین کی کششِ ثقل میں کسی قسم کی کمی یا تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں۔اس روز ایک مکمل سورج گرہن متوقع ہے، جسے دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔ گرہن آرکٹک اوشن، گرین لینڈ، آئس لینڈ، بحرِ اوقیانوس، پرتگال اور شمالی اسپین میں نمایاں طور پر نظر آئے گا۔
فلکیات کے ماہرین کے مطابق سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے اور سورج کی روشنی کو جزوی یا مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔
ناسا نے واضح کیا ہے کہ سورج گرہن کا زمین کی مجموعی کششِ ثقل پر کوئی غیر معمولی اثر نہیں پڑتا۔ناسا کے مطابق سورج اور چاند کی کشش زمین پر ہمیشہ اثر انداز ہوتی ہے، تاہم یہ اثر سمندری لہروں یعنی مدوجزر تک محدود رہتا ہے، نہ کہ انسانوں کے وزن یا زمین کی گریویٹی میں کسی اچانک تبدیلی تک۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ’’مکمل سورج گرہن زمین کی کششِ ثقل پر کوئی غیر معمولی اثر نہیں ڈالتا۔ سورج اور چاند کی کشش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مدوجزر کی قوتیں کئی دہائیوں پہلے سے درست انداز میں معلوم اور قابلِ پیش گوئی ہوتی ہیں۔‘‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلکیاتی واقعات ہمیشہ عوامی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں، لیکن اکثر سوشل میڈیا پر ان سے متعلق غیر سائنسی دعوے بھی وائرل ہو جاتے ہیں۔ کششِ ثقل ختم ہونے یا انسانوں کے ہوا میں معلق ہونے جیسے دعووں کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق سورج گرہن ایک خوبصورت اور قدرتی فلکیاتی مظہر ہے، جسے محفوظ انداز میں دیکھنا چاہیے، مگر اسے غیر حقیقی یا خوفناک دعووں سے جوڑنا درست نہیں۔