کائنات میں ڈائمنڈ پلینٹس کی موجودگی کا انکشاف، ناسا کی تحقیق سامنے آگئی

کائنات میں ڈائمنڈ پلینٹس کی موجودگی کا انکشاف، ناسا کی تحقیق سامنے آگئی

ناسا کے سائنسدانوں نے نظامِ شمسی سے باہر ایسے سیاروں کی نشاندہی کی ہے جن کی ساخت عام سیاروں سے بالکل مختلف ہے۔ ان غیر معمولی دنیاوں میں کاربن کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں عام طور پر ’’ڈائمنڈ پلینٹس‘‘یعنی ہیرے جیسے سیارے کہا جاتا ہے۔

ان میں سب سے زیادہ زیرِ بحث سیارہ ہے، جو زمین سے تقریباً 41 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک سپر ارتھ ہے، یعنی زمین سے کئی گنا بڑا سیارہ۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی سطح اور اندرونی ساخت میں کاربن کی مقدار بہت زیادہ ہے، اور شدید درجہ حرارت کی وجہ سے یہ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہاں موجود کاربن ہیروں کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس سیارے کا ایک حصہ مسلسل شدید گرمی اور روشنی کا شکار رہتا ہے، جس سے اس کی سطح پر عجیب کیمیائی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مصنوعی ذہانت اور روبورٹس کی مدد سے تعمیر ہونے والا حیران کن ہائیڈرو منصوبہ

ایک اور دلچسپ دریافت ہے، جو تقریباً 4,000 نوری سال دور ایک پلسار کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہ سیارہ ایک انتہائی غیر معمولی ماحول میں موجود ہے جہاں طاقتور تابکاری اور شدید کششِ ثقل کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ساخت زیادہ تر کرسٹل لائن کاربن پر مشتمل ہو سکتی ہے، جو اسے ایک سخت اور انتہائی گھنا جسم بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چاند کے چھپے رنگ سامنے آگئے، حیران کن سائنسی انکشاف

یہ دریافتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کائنات میں موجود سیارے صرف زمین جیسے نہیں ہوتے بلکہ ان کی ساخت، کیمسٹری اور ماحول انتہائی مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ سیارے گیس سے بھرے ہیں، کچھ چٹانوں سے، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ممکنہ طور پر قیمتی معدنیات جیسے ہیروں سے بھرے ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی تحقیقات ہمیں نہ صرف کائنات کو بہتر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ زمین کے باہر زندگی اور مادے کی شکلیں ہماری توقع سے کہیں زیادہ متنوع ہو سکتی ہیں۔

editor

Related Articles