گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی بازاروں میں آم کی بہار آ جاتی ہے اور یہ پھل پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے حد شوق سے کھایا جاتا ہے،بچے ہوں یا بڑے، ہر عمر کے افراد آم کے ذائقے کے دیوانے ہوتے ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض آم انسانی صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
کیمیکل سے جلدی پکائے گئے آم
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں فروخت ہونے والے کچھ آم قدرتی طریقے سے نہیں بلکہ مختلف کیمیکلز کے ذریعے جلدی پکائے جاتے ہیں، اس مقصد کے لیے عام طور پر کاربائیڈ نامی خطرناک کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے، جو انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
صحت پر ممکنہ اثرات
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربائیڈ نمی کے ساتھ مل کر ایسی گیس پیدا کرتا ہے جو پھل کو تیزی سے پکاتی ہے، تاہم اس میں آرسینک اور فاسفورس جیسے زہریلے اجزا بھی شامل ہو سکتے ہیں، یہ عناصر جسم میں داخل ہو کر معدے، سانس اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایسے آم کھانے سے پیٹ درد، متلی، سانس لینے میں دشواری، سر درد اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ مسلسل استعمال سے اعصابی کمزوری اور سنگین بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
فوڈ اتھارٹی کی ہدایت
فوڈ اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ آم خریدتے وقت ان کے رنگ، خوشبو اور ساخت پر خاص توجہ دی جائے، اگر آم غیر معمولی چمکدار ہوں، بہت زیادہ شوخ رنگ رکھتے ہوں یا ان سے کیمیکل جیسی بو آئے تو ایسے پھل سے اجتناب کیا جائے۔
قدرتی آم کی پہچان
ماہرین کے مطابق قدرتی طور پر پکے ہوئے آم نسبتاً نرم ہوتے ہیں ان میں قدرتی خوشبو پائی جاتی ہے اور ان کا رنگ زیادہ مصنوعی یا غیر معمولی طور پر تیز نہیں ہوتا،ایسے آم صحت کے لیے زیادہ محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔
احتیاطی مشورہ
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ آم استعمال کرنے سے پہلے انہیں اچھی طرح دھو لیں تاکہ ممکنہ کیمیکل کے اثرات کم کیے جا سکیں، جبکہ خاص طور پر بچوں کو ایسے مشکوک پھلوں سے دور رکھنا ضروری ہے۔