دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر رواں سیزن میں جہاں ایک روز میں 274 کوہ پیماؤں نے کامیاب سمٹ کا عالمی ریکارڈ قائم کیا وہیں ایک معذور روسی کوہ پیما کی غیر معمولی کامیابی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
دونوں ٹانگوں سے محروم روسی کوہ پیما رستم نبیئیف نے صرف اپنے ہاتھوں اور بازوؤں کے سہارے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے ہمت حوصلے اور عزم کی نئی مثال قائم کر دی۔
رپورٹس کے مطابق رستم نبیئیف نے کئی ہفتوں پر محیط دشوار گزار مہم کے دوران شدید سردی کم آکسیجن، برفانی ہواؤں اور خطرناک راستوں کا سامنا کیا۔ چونکہ وہ دونوں ٹانگوں سے محروم ہیں اس لیے انہیں چڑھائی کے دوران عام کوہ پیماؤں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ جسمانی مشقت برداشت کرنا پڑی۔
کوہ پیما نے خصوصی آلات اور مصنوعی مددگار ٹیکنالوجی کے بجائے زیادہ تر اپنی بازوؤں کی طاقت اور ذہنی استقامت پر انحصار کیا۔ 8 ہزار میٹر سے زائد بلند خطرناک ڈیتھ زون میں بھی انہوں نے مسلسل پیش قدمی جاری رکھی جہاں عام انسان کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
رستم نبیئیف کی کامیابی کو دنیا بھر میں انسانی عزم اور حوصلے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر بھی ان کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جبکہ صارفین انہیں “ناقابلِ شکست انسان” قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب نیپال میں موسم سازگار ہونے کے بعد ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا جہاں 21 مئی کو 274 افراد نے کامیاب سمٹ کر کے ایک روز میں نئی عالمی تاریخ رقم کی۔ اس سے قبل 2019 میں 223 کوہ پیماؤں نے ایک دن میں ایورسٹ سر کیا تھا۔