امریکا کی قومی خفیہ اداروں کی سربراہ تلسی گبارڈ نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق استعفے کی وجہ ان کے شوہر کی سنگین بیماری بتائی جا رہی ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کی قومی خفیہ اداروں کی سربراہ تلسی گبارڈ نے جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تلسی گبارڈ کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیاتاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تلسی گبارڈ 30 جون کو عہدہ چھوڑ دیں گی جبکہ قومی خفیہ اداروں کے نائب سربراہ آرون لوکاس عبوری طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
یاد رہے کہ تلسی گبارڈ نے گزشتہ برس فروری میں اس اہم عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
تلسی گبارڈ کون ہیں؟
تلسی گبارڈ امریکا کی معروف سیاست دان اور سابق فوجی افسر ہیں جنہوں نے امریکی کانگریس کی رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ریاست ہوائی سے منتخب ہونے والی پہلی ہندو خاتون سیاست دان کے طور پر شہرت رکھتی ہیں اور امریکی فوج میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
تلسی گبارڈ نے فروری 2025 میں امریکی قومی خفیہ اداروں کی سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس منصب پر تعیناتی کے بعد وہ امریکا کے تمام اہم خفیہ اداروں کے درمیان رابطہ اور نگرانی کی ذمہ دار تھیں۔ ان کی تقرری اس وقت خاصی توجہ کا مرکز بنی تھی کیونکہ وہ ماضی میں امریکی خارجہ پالیسی، جنگوں اور عالمی تنازعات پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
تلسی گبارڈ پہلے ڈیموکریٹک جماعت سے وابستہ تھیں اور 2020 کے صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لے چکی ہیں تاہم بعد میں انہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ وہ اپنے غیر روایتی سیاسی مؤقف، جنگ مخالف بیانات اور عالمی معاملات پر سخت رائے کے باعث اکثر امریکی سیاست میں نمایاں رہیں۔