معاشی دباؤ کا اثر، برطانیہ میں ہزاروں ملازمین بے روزگار

معاشی دباؤ کا اثر، برطانیہ میں ہزاروں ملازمین بے روزگار

برطانیہ میں ایک ماہ کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس نے ملک میں روزگار کے بحران سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق کاروباری ادارے بڑھتے ہوئے ٹیکسز، اخراجات اور معاشی دباؤ کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں متعدد شعبوں میں ملازمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :بے روزگار نوجوانوں کی کاکروچ پارٹی سوشل میڈیا پر وائرل

رپورٹس کے مطابق کورونا وبا کے بعد یہ برطانیہ میں بے روزگاری کی سب سے بڑی لہر قرار دی جا رہی ہے جبکہ نئی آسامیوں کی تعداد گزشتہ پانچ برسوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ خاص طور پر مہمان نوازی اور خوردہ فروشی کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں کاروبار اخراجات کم کرنے کے لیے افرادی قوت میں کمی کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ کی سہ ماہی میں ملک میں بے روزگاری کی شرح غیر متوقع طور پر 5 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ نجی شعبے کی آمدنی اور اجرتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی، ٹیکسوں کا دباؤ اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال برطانوی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔

حکومتی دعوؤں کے باوجود عوام کو روزگار کے مسائل، مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر معاشی حالات بہتر نہ ہوئے تو بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

editor

Related Articles