پاکستان نے 10ویں ورلڈ ڈرون کانگریس میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی، جہاں 120 سے زائد ممالک کے نمائندے شریک تھے۔
وزیرِ مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کانگریس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ڈرون ٹیکنالوجی، بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے ملک کا وژن پیش کیا۔
اپنے خطاب میں بلال بن ثاقب نے پاکستان کو ’’کنٹری آف آنر‘‘ نامزد کیے جانے پر کانگریس انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اعزاز پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل صلاحیتوں اور عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی اور بلاک چین کا امتزاج لاجسٹکس، سپلائی چین اور صنعتی نظام کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے، جبکہ یہ ٹیکنالوجیز مستقبل کے اسمارٹ سٹیز، نگرانی کے نظام اور ایمرجنسی رسپانس میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی سطح پر اقدامات کر رہا ہے اور ڈیجیٹل اکانومی اور ورچوئل اثاثہ جات کے ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ ڈرون کانگریس عالمی تعاون، تکنیکی جدت اور صنعتی ترقی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جبکہ پاکستان اس شعبے میں عالمی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔
آخر میں انہوں نے پاکستان اور چین کی دوستی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہرے ہیں۔