ہانگژو میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے دو نئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نے اپنے دورے کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے سربراہ وانگ ہاؤ سے ملاقات کی،ملاقات میں چینی حکام نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کیا اور دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے ژجیانگ صوبے کی ترقیاتی پالیسیوں اور ماحول دوست معاشی ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین کا ترقیاتی وژن دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے، انہوں نے صدر شی جن پنگ کی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں :وزیر اعظم شہباز شریف دورہ چین کیلئے روانہ ہو گئے، کون سی اہم ملاقاتیں ہوں گی ،تفصیلات آگئیں
دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں میں پہلا سمجھوتہ ژجیانگ صوبے اور پنجاب کے درمیان سسٹر پروونس تعاون کے آغاز سے متعلق ہے، جس کے تحت دونوں خطے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں قریبی اشتراک عمل کریں گے۔
دوسرا معاہدہ ہانگژو نارمل یونیورسٹی اور پاکستان کے سفارتخانے کے درمیان ایک مشترکہ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے قیام کے حوالے سے ہوا ہے، جو تعلیمی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مرکز پاکستان اور چین کے تعلیمی و سائنسی تعاون کو نئی سمت دے گا اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، اور یہ وقت دونوں ممالک کے لیے تعاون، ترقی اور اعتماد کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ژجیانگ صوبے کے ساتھ ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن، زراعت، قابلِ تجدید توانائی اور جدید صنعتی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے تاکہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

