ایرانی فوج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ مستقبل میں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے تو آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہی رہے گی۔
اپنے بیان میں ایرانی عہدیدار نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے ٹرانزٹ روٹس، آمدورفت کے اوقات، سیکیورٹی نگرانی اور میری ٹائم لائسنسوں کے اجرا سمیت تمام اختیارات بدستور ایران کے پاس رہیں گے،انہوں نے کہا کہ اس حساس اور اسٹریٹجک بحری گزرگاہ کے حوالے سے فیصلے صرف ایرانی حکام ہی کریں گے۔
بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کی قومی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، اس لیے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے یا سفارتی پیش رفت کے باوجود ایران اپنے اختیار اور نگرانی سے دستبردار نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں استحکام اور محفوظ بحری تجارت کا حامی ہے، تاہم ملکی سلامتی اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جسے عالمی منڈی اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار روزانہ منتقل ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔