ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ شہر میں مختلف اقسام کے رکشوں پر مرحلہ وار پابندی عائد کی جا رہی ہے اور آئندہ صرف وہی رکشے چل سکیں گے جن میں میٹر نصب ہوگا۔
کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ ای چالان سسٹم کے حوالے سے شہریوں کو بعض مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ای چالان خودکار نظام کے تحت جاری ہوتے ہیں اور بعض اوقات غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔
پیر محمد شاہ نے بتایا کہ چنگچی رکشوں کو شہر کی مرکزی شاہراہوں سے ہٹانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ کراچی میں صرف وہی رکشے چلانے کی اجازت ہوگی جن میں میٹر نصب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ای چالان سسٹم اور لین مارکنگ کے باعث شہر میں ٹریفک کی روانی میں بہتری آئی ہے۔ گزشتہ سال کراچی میں ہیوی ٹریفک سے ہونے والے حادثات میں 164 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے مزید بتایا کہ ریکارڈ کے مطابق اب تک 45 ہزار گاڑیاں ایسی ہیں جن کے اصل مالکان نے انہیں اپنے نام منتقل نہیں کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کارروائیاں جاری ہیں اور متعدد افراد کو گرفتار کرکے متعلقہ تھانوں کے حوالے بھی کیا جا چکا ہے۔