صوبائی دارالحکومت اور روشنیوں کے شہر کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس، رینجرز اور حساس اداروں نے مشترکہ اور انفرادی کارروائیاں کرتے ہوئے لیاری گینگ وار کے انتہائی مطلوب کمانڈر کو ہلاک کر دیا جبکہ بھتہ خوروں اور ہائی ٹیک منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو بھی بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کے گنجان آباد اور اسٹریٹجک لحاظ سے حساس علاقے ’پرانا گولیمار‘ میں پولیس اور ایک حساس ادارے نے خفیہ اطلاع پر مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن کیا۔
سیکیورٹی فورسز کو دیکھتے ہی جرائم پیشہ عناصر نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے تحت جوابی کارروائی کی اور زبردست مقابلے کے بعد لیاری گینگ وار کا انتہائی مطلوب اور سفاک کمانڈر ’مہراج‘ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید ترین خودکار اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔ مہراج نہ صرف سنگین جرائم، قتل اور اقدامِ قتل کی وارداتوں میں ملوث تھا بلکہ وہ علاقے میں منشیات فروشی کے ایک بہت بڑے اور منظم نیٹ ورک کو بھی چلا رہا تھا، جس کی ہلاکت کو گینگ وار کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے خصوصی ونگ، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اور سندھ رینجرز نے مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے لیاقت آباد کے علاقے میں کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک خطرناک اور گلی کوچوں میں تاجروں کو ہراساں کرنے والے بھتہ خور کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتار ملزم کے قبضے سے بھی غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا ہے اور اسے فوری طبی امداد اور تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسی دوران منشیات کے خلاف جاری مہم میں درخشاں پولیس نے ڈیفنس کے علاقے میں ایک جدید اور ہائی ٹیک نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا ہے۔
پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے پوش علاقوں میں منشیات فروخت کرنے والے گینگ کے 4 اہم کارندوں کو دھر لیا۔
گرفتار ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں مہنگی اور آئس جیسی خطرناک منشیات برآمد ہوئی ہیں، جو وہ اسکولوں، کالجوں اور نوجوان نسل کو آن لائن آرڈرز پر سپلائی کرتے تھے۔ پولیس نے تمام ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے گہرائی سے تفتیش شروع کر دی ہے۔
کراچی آپریشز اور لیاری گینگ وار کا دوبارہ ابھرنے کا خطرہ
کراچی میں 2013 میں شروع ہونے والے رینجرز اور پولیس کے گرینڈ آپریشن کے بعد لیاری گینگ وار، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کی کمر توڑ دی گئی تھی اور عزیر بلوچ و رحمان ڈکیت جیسے نامی گرامی گینگز کا خاتمہ ہوا تھا۔
تاہم پرانا گولیمار اور لیاری کے چند مضافاتی علاقے اب بھی ایسے پاکٹس بنے ہوئے ہیں جہاں گینگ وار کے بچے کھچے کارندے دوبارہ منظم ہونے اور منشیات فروشی کا نیٹ ورک قائم کر کے اپنے جرائم کی فنڈنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مہراج جیسے کمانڈر کا پرانا گولیمار میں دوبارہ ایکٹیو ہونا اور اسلحے کے ساتھ ساتھ دھماکا خیز مواد کا برآمد ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ گینگز اب محض جرائم تک محدود نہیں رہے بلکہ دہشت گردی کی پشت پناہی بھی حاصل کر رہے ہیں۔
دوسری طرف کراچی کے پوش علاقوں (جیسے ڈیفنس اور کلفٹن) میں روایتی منشیات فروشی کے بجائے ’آن لائن اور ڈیجیٹل ڈرگ سپلائی‘ نے جنم لیا ہے، جو سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا اور جدید چیلنج بن چکا ہے، جس کا توڑ کرنے کے لیے اب سائبر انٹیلیجنس کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کا کریک ڈاؤن
پرانا گولیمار میں حساس ادارے اور پولیس کا اکٹھے کارروائی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اب گینگ وار کارندوں کو پکڑنے کے لیے وفاقی اور صوبائی انٹیلیجنس ایجنسیاں ایک پیج پر ہیں۔ یہ کوآرڈینیشن جرائم کے فوری خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔
دھماکا خیز مواد کی برآمدگی اور بڑے خطرے کا ٹلنا
گینگ وار کمانڈر سے صرف اسلحہ نہیں بلکہ ’دھماکا خیز مواد‘ کا ملنا انتہائی تشویشناک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مہراج یا اس کے گروہ کا ارادہ شہر میں کسی بڑے مینوفیکچرنگ پلانٹ، سیکیورٹی چیک پوسٹ یا عوامی اجتماع کو نشانہ بنانا تھا، جسے بروقت ناکام بنا دیا گیا۔
تاجر برادری کے لیے ریلیف
لیاقت آباد کراچی کا ایک بڑا تجارتی مرکز ہے۔ وہاں رینجرز اور ایس آئی یو کی جانب سے بھتہ خور کی گرفتاری سے مقامی تاجروں اور دکانداروں کا سیکیورٹی اداروں پر اعتماد بحال ہوگا، جو اسٹریٹ کرائم اور بھتہ خوری کی وجہ سے شدید دباؤ میں تھے۔
ڈرگ مافیا کے بدلتے پینل
پولیس کی کارروائی نے ثابت کیا ہے کہ منشیات فروش اب گلیوں کے بجائے انٹرنیٹ اور واٹس ایپ گروپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ پولیس کو اب اپنے روایتی طریقوں کو اپ گریڈ کر کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سیل قائم کرنے ہوں گے تاکہ اس خاموش قاتل (آن لائن منشیات) کا راستہ روکا جا سکے۔