کوئٹہ چمن پھاٹک دھماکے سے متعلق بلوچستان ریئلٹی چیک کی جانب سے بھارتی خفیہ ایجنسی (را) کے زیرِ اثر چلنے والے سوشل میڈیا ہینڈلز کے دعوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں مختلف ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹس کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات میں واضح تضادات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مختلف اکاؤنٹس کی جانب سے شیئر کی گئی اسپریڈشیٹس میں ایف سی اہلکاروں کی تعداد کے حوالے سے ایک دوسرے سے متضاد دعوے کیے گئے۔
ایک اکاؤنٹ نے6 اور 78اہلکاروں کا ذکر کیا، جبکہ دوسرے اکاؤنٹ میں 9جے سی اوز اور 51 اہلکاروں کا دعویٰ کیا گیا اسی طرح تیسرے اکاؤنٹ میں 6 جے سی اوز اور 58 اہلکاروں کی تعداد ظاہر کی گئی۔
🧵بلوچستان رئیلٹی چیک نے بھارت کے خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ انالسز ونگ (R&AW) کے زیرِ اثر چلنے والے ایکس (ٹویٹر) ہینڈلز کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈے (ڈس انفارمیشن) کی مہم کا پردہ چاک کیا ہے۔ ایک فرضی اور جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش میں، را (R&AW) کے حمایت یافتہ ہر اکاؤنٹ 3/1 pic.twitter.com/0jWBXrAuD8
— Balochistan Reality Check (@TommyJuata) May 24, 2026

