ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق دونوں ممالک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو گیا ہے جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر تیار ہے۔
امریکی میڈیا اور نیوز ویب سائٹ ایکسئیس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت شامل ہے۔ معاہدہ طے پانے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول نہیں کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق ایران اپنے سابقہ سخت مؤقف میں نرمی لانے پر تیار دکھائی دے رہا ہے تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی نیوز چینل 12 نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس موجود تمام افزودہ یورینیم کو تلف کرنا معاہدے کا لازمی حصہ ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے پر اب بھی ایک یا دو نکات پر اختلافات موجود ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر جنگ سے پہلے والی صورتحال میں بحال نہیں کیا جائے گا البتہ جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق بحال کر دی جائے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی معاہدہ حتمی مرحلے میں نہیں پہنچا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد مزید اعلانات کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ معاہدے میں جلد بازی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے اگرچہ ایک روز قبل وہ کہہ چکے تھے کہ معاہدہ زیادہ تر طے پا چکا ہے۔