پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت سے متعلق جاری مباحثے پر ان کی مفتی تقی عثمانی کے ساتھ تعمیری اور مفید ملاقات ہوئی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بلال بن ثاقب نے کہا کہ وہ اور مفتی تقی عثمانی ایک بنیادی مقصد پر متفق ہیں، جو پاکستانی عوام کو دھوکہ دہی، استحصال اور مالی نقصان سے محفوظ رکھنا ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق ملاقات کے دوران انہوں نے مؤقف پیش کیا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثے، اسٹیبل کوائنز اور حقیقی اثاثوں پر مبنی ٹوکنائزڈ اثاثے مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز پر مشتمل ایک وسیع میدان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام ٹیکنالوجیز کا جائزہ ایک ہی زاویے سے لینے کے بجائے ان کی تکنیکی نوعیت کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا جامع شرعی جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ چونکہ یہ شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے، اس لیے ان کی خواہش ہے کہ معزز علمائے کرام، متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے درمیان مسلسل مشاورت اور مکالمہ جاری رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مشاورت کا مقصد پاکستان کی پالیسی کو اسلامی اصولوں اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کی مکمل اور درست سمجھ کی بنیاد پر مرتب کرنا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں صدر وفاق المدارس العربیہ اور دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد تقی عثمانی کا کرپٹو کرنسی سے متعلق فتویٰ سامنے آیا تھا۔