پاکستان کے ممتاز اور جید عالمِ دین مفتی منیب الرحمان نے ڈیجیٹل اثاثوں اور جدید سرمایہ کاری کے حوالے سے جاری عالمی بحث میں حصہ لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہوں نے ابھی تک کرپٹو کرنسی کے جائز یا ناجائز ہونے پر کوئی حتمی شرعی فیصلہ (فتویٰ) جاری نہیں کیا تاہم سونے کی ٹریڈنگ کا طریقہ کار غلط ہے۔
ایک پوسٹ کارڈ میں اپنے انٹرویو کے دوران رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین اور جید عالم دین مفتی منیب الرحمان نے اسلامی سرمایہ کاری کے اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو صرف شرعی حدود میں رہ کر کاروبار کرنا چاہیے۔
اسلامی سرمایہ کاری اور سکریننگ کے جدید اصول
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو صرف ایسے کاروباروں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے جو شراب، خنزیر، منشیات اور دیگر تمام ممنوعہ و غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک ہوں۔
انہوں نے جدید مالیاتی منڈیوں (فنانشل مارکیٹس) کی پیچیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’چونکہ جدید دور کے مالیاتی نظام انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں، اس لیے علمائے کرام کسی بھی سرمایہ کاری کو اسلامی اصولوں کے عین مطابق جانچنے کے لیے ‘شرعی سکریننگ’ کا طریقہ کار استعمال کرتے ہیں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کاروبار حلال کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں‘۔
مفتی منیب نے کرپٹو کرنسی کے معاملے پر محتاط رویہ اپنایا اور تاحال اسے قطعی طور پر حلال یا حرام قرار دینے سے گریز کیا ہے، تاہم انہوں نے مروجہ گولڈ ٹریڈنگ کے طریقہ کار کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اس سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
مفتی تقی عثمانی کا تفصیلی فتویٰ اور کرپٹو پر پابندی
مفتی منیب الرحمان کے اس بیان کے بعد ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کی شرعی حیثیت پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے سب سے بڑے دارالافتا کے سربراہ اور مایہ ناز عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی کرپٹو کرنسی کے خلاف ایک تفصیلی فتویٰ جاری کر چکے ہیں۔
مفتی تقی عثمانی نے اپنے فتوے میں واضح کیا تھا کہ موجودہ شکل میں کرپٹو کرنسی، ٹوکنز اور سٹیبل کوائنز کی خرید و فروخت اور ٹریڈنگ اسلامی قانون (شریعت) کے تحت بالکل ناپسندیدہ اور ناجائز ہے۔
کرپٹو کرنسی شریعت میں دیے گئے ’مال‘ کے معیار اور تعریف پر پورا نہیں اترتی، اس لیے اسے ادائیگیوں یا تجارت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ریگولیٹری باڈی کا ردِعمل اور علمائے کرام سے ملاقات
مفتی تقی عثمانی کے اس سخت فتوے کے بعد پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ان سے خصوصی ملاقات کی۔
اس اہم ملاقات میں ڈیجیٹل اثاثوں کے مستقبل اور تکنیکی پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے بعد بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی تمام اثاثوں کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ تمام ڈیجیٹل اثاثوں پر یکطرفہ یا ایک جیسا حکم لگانے کے بجائے ہر اثاثے کا الگ سے تکنیکی اور شرعی جائزہ لیا جانا چاہیے کیونکہ ان کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔
پاکستان میں کرپٹو اور غیر روایتی اثاثوں کا تنازع
پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران کرپٹو کرنسی کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جہاں لاکھوں نوجوان اس ڈیجیٹل کاروبار سے منسلک ہیں۔
تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت کی جانب سے تاحال کرپٹو کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ قانونی ابہام کے ساتھ ساتھ اب ملک کے چوٹی کے علمائے کرام کے درمیان اس کی شرعی حیثیت پر مختلف آرا سامنے آنے سے سرمایہ کار شدید الجھن کا شکار ہیں۔
جہاں مفتی تقی عثمانی اسے یکسر مسترد کرتے ہیں، وہیں مفتی منیب الرحمان کا محتاط مؤقف اور ریگولیٹرز کی کوششیں اس بحث کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
مفتی منیب الرحمان کے دوبارہ سامنے آنے والے بیانات اور مفتی تقی عثمانی کے فتوے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی مذہبی حلقے جدید فنانشل ٹیکنالوجی (فن ٹیک) کو روایتی مروجہ اصولوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
کرپٹو کو ’مال‘ نہ ماننا ایک بڑا شرعی نکتہ ہے، لیکن دوسری جانب پی وی اے آر اے جیسے سرکاری اداروں کا یہ مؤقف بھی وزن رکھتا ہے کہ بلاک چین اور یوٹیلٹی ٹوکنز کی الگ الگ سکریننگ ہونی چاہیے۔
جہاں تک سونے کی ٹریڈنگ کا تعلق ہے، تو اسلامی اصولوں کے مطابق کسی بھی چیز کی خرید و فروخت کے وقت اس کا مادی وجود (پوزیشن) ضروری ہے، جبکہ جدید فاریکس مارکیٹ میں سونا صرف کاغذات یا اسکرین پر خریدا اور بیچا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مفتی منیب نے اسے غلط قرار دیا۔
جب تک پاکستان میں حکومت علمائے کرام اور تکنیکی ماہرین مل کر کوئی متفقہ لائحہ عمل یا ’شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فریم ورک‘ تیار نہیں کرتے، تب تک پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس کا مستقبل دھندلا ہی رہے گا اور سرمایہ کار رسک پر رہیں گے۔