ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے گزشتہ سیشن کے دوران ہونے والا اضافہ بڑی حد تک ختم ہوگیا ہے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے فائر بندی کی اپیل کے بعد ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں عالمی توانائی مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق برینٹ کروڈ کے سودے 91 سینٹس یا 1 فیصد کمی کے ساتھ 93.34 ڈالر فی بیرل پر آگئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 1.13 ڈالر یا 1.2 فیصد کمی کے بعد 90.17 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
اس سے قبل گزشتہ سیشن میں مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ اضافہ واپس ہوگیا۔
اگرچہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی نے عالمی منڈی کو ریلیف دیا ہے لیکن صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹیرر نے کہا کہ سرمایہ کار اس بات پر مطمئن نہیں کہ جنگ بندی طویل مدت تک برقرار رہ سکے گی۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سیکامور کے مطابق موجودہ پیش رفت نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا ہے تاہم جغرافیائی و سیاسی خطرات اب بھی برقرار ہیں اور مستقل امن معاہدے کے امکانات واضح نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور اسرائیل دونوں کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر مخالف فریق نے دوبارہ کارروائی کی تو جوابی اقدامات کیے جائیں گے جس سے خطے میں پائیدار استحکام کے امکانات کمزور دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی جبکہ توانائی منڈی میں استحکام کے لیے عالمی سطح پر رابطے بھی بڑھائے جا رہے ہیں۔