اسلام آباد اور راولپنڈی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے، جہاں ضرورت مندوں کے نام پر قربانی کا گوشت جمع کرنے والے گروہ اسے فروخت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گروہ عید کے دنوں میں گھروں، گلی محلوں اور مختلف سیکٹرز میں جا کر قربانی کا گوشت جمع کرتے ہیں۔ تاہم بعد میں یہی گوشت باقاعدہ طور پر فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے، جس سے اس عمل کے اصل مقصد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق راولپنڈی کی جامع مسجد روڈ پر ایک عارضی گوشت مارکیٹ بھی قائم ہو گئی ہے، جہاں جمع کیا گیا گوشت عام مارکیٹ سے کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق گائے کا گوشت تقریباً 800 روپے فی کلو جبکہ بکرے کا گوشت 1500 سے 1600 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مقامی قصابوں اور شہریوں کی بڑی تعداد خریداری کے لیے وہاں پہنچ رہی ہے۔
شہریوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قربانی کا گوشت منظم انداز میں جمع کر کے فروخت کیا جا رہا ہے تو اس سے وہ مستحق خاندان متاثر ہو سکتے ہیں جن کے لیے یہ گوشت دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کا بنیادی مقصد ضرورت مندوں کو خوشیوں میں شریک کرنا اور ان کی مدد کرنا ہے۔
کئی شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے معاملات کی تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی منظم نیٹ ورک کی جانب سے قربانی کے گوشت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو اس کے خلاف مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے۔