امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی جانب ایک اور اہم پیش رفت کا اعلان کر دیا ہے۔ ادارے کے حکام کے مطابق چاند پر بیس قائم کرنے کے ابتدائی مشنز رواں سال کے اختتام سے قبل روانہ کیے جائیں گے۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ادارہ 1960 کی دہائی کے تاریخی قمری پروگراموں کے تجربات سے سیکھتے ہوئے مستقبل کے مشنز کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق چاند پر انسانی بیس کا قیام بلاشبہ ایک غیرمعمولی خواب ہے، تاہم اس کے ساتھ کئی تکنیکی اور حفاظتی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔
یہ منصوبہ ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد صرف چاند تک رسائی حاصل کرنا نہیں بلکہ وہاں ایسی سہولیات اور انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے جو مستقبل میں انسانوں کو مریخ سمیت مزید دور دراز خلائی مقامات تک پہنچانے میں مدد فراہم کر سکے۔
اس تاریخی منصوبے میں نجی شعبے کی شمولیت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ارب پتی کاروباری شخصیت جیف بیزوس کی خلائی کمپنی بلیو اوریجن بھی اس مشن کا حصہ ہوگی۔ ماہرین کے مطابق یہ تاریخ کا پہلا بڑا قمری لینڈر مشن ہوگا جس میں نجی سرمایہ کاری اور جدید خلائی ٹیکنالوجی کو یکجا کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں بغیر انسان کے ایک قمری لینڈر کو چاند کے جنوبی قطب پر اتارا جائے گا۔ اس مشن کا مقصد لینڈنگ ٹیکنالوجی کی جانچ، سائنسی آلات کی تنصیب اور مستقبل میں انسانی مشنز کے لیے ضروری معلومات اکٹھی کرنا ہے۔
خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ابتدائی مشن کامیاب ثابت ہوتے ہیں تو چاند پر مستقل انسانی رہائش اور تحقیقی مراکز کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جو خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔