ایران وزیر خارجہ کا سخت رد عمل ، واشنگٹن کا مؤقف حقائق کے برعکس قرار دیدیا

ایران وزیر خارجہ کا سخت رد عمل ، واشنگٹن کا مؤقف حقائق کے برعکس قرار دیدیا

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن کے مؤقف کو حقائق کے برعکس قرار دے دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عراق میں موجود مسلح گروہوں، حزب اللہ اور حماس کو خطے میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دینا حقیقت کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسے بیانات سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے خطے میں جاری پالیسیوں اور بیرونی مداخلت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اسماعیل بقائی نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکی عسکری موجودگی اور اس سے متعلق اقدامات جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی کے عوامل کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک فریق کو ذمہ دار قرار دینا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی میزبانی اور مثبت کردار کے شکر گزار ہیں‘، ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا پیغام

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسرائیل پر بھی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ امریکی حمایت کے باعث اسرائیل کو خطے میں مختلف کارروائیوں کے لیے غیر معمولی آزادی حاصل ہے۔ ان کے مطابق جنگی سرگرمیوں اور تشدد کے واقعات نے مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔

یہ ردعمل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کو خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ قرار دیا تھا۔ امریکا طویل عرصے سے ایران پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ خطے میں موجود بعض گروہوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :محسن نقوی کی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات

دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے سعودی عرب میں بھی مذاکرات متوقع ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کی حتمی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔ ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ حتمی معاہدے کے لیے اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی ایران میں جنگ بندی کی صورتحال۔

editor

Related Articles