امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہ مارک روٹے سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے تناظر میں بعض یورپی ممالک کے کردار پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے اتحادیوں سے وہ تعاون حاصل نہیں ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے مارک روٹے کے ساتھ گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں واضح برتری حاصل رہی ہے اور موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران مختلف معاملات میں بڑی رعایتیں دینے پر آمادہ دکھائی دے رہا ہے جس سے کسی ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے،امریکی صدر نے ایران کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کرنے کی خبروں کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اگر غذائی اجناس خریدنا چاہے تو وہ امریکہ سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر ضروری خوراک حاصل کر سکتا ہے، جبکہ ان اشیا کی ادائیگی ایران کے منجمد اثاثوں میں موجود رقوم سے کی جا سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یوکرین میں جاری جنگ نے عالمی دفاعی صنعت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور اس کے نتائج مختلف ممالک کی عسکری تیاریوں اور دفاعی پیداوار پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے ذریعے جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا محصول یا فیس عائد نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات فوری طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں،صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے بعض منجمد فنڈز اب بھی امریکی نگرانی میں ہیں اور ان رقوم کے استعمال سے متعلق تمام فیصلے طے شدہ ضابطوں کے مطابق کیے جائیں گے۔