وفاقی بجٹ 2026-27 میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر انحصار مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس سے معاشی دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات نے ایک بار پھر عوامی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں حکومت نے ان ڈائریکٹ ٹیکسز سے 957 ارب روپے اضافے کا تخمینہ لگایا ہے، جو عام شہری کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 کی نئی حکمت عملی
میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ نئے مالی سال کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا ہدف 9 ہزار 837 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت بالواسطہ ٹیکس نظام پر مزید انحصار کر رہی ہے، جو بالآخر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر زیادہ انحصار عام آدمی کے لیے مہنگائی کا بوجھ بڑھا دیتا ہے، کیونکہ یہ ٹیکس براہِ راست صارف تک منتقل ہو جاتا ہے۔
رواں مالی سال کی کارکردگی اور ٹیکس اہداف میں کمی
دستاویز کے مطابق رواں مالی سال میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا تخمینہ 8 ہزار 880 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ اصل ہدف 9 ہزار 730 ارب روپے تھا۔ اس طرح ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 850 ارب روپے کی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار بھی اس رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹیکس نیٹ مسلسل بڑھ رہا ہے، مگر اہداف حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔
عوام پر ممکنہ اثرات، مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر انحصار بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ ٹیکس اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں شامل ہوتا ہے، اس لیے اس کا بوجھ براہِ راست عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
عوامی سطح پر پہلے ہی مہنگائی سے دباؤ موجود ہے، اور اس نئے بجٹ اقدام سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ کاروباری طبقے کا بھی کہنا ہے کہ لاگت بڑھنے سے مارکیٹ میں خرید و فروخت متاثر ہو سکتی ہے۔
مالی سال 2024-25 اور 2023-24 کا تقابلی جائزہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز 6 ہزار 815 ارب روپے تھے جبکہ مالی سال 2023-24 میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز 5 ہزار 553 ارب روپے رہے ۔
یہ واضح کرتا ہے کہ ہر سال بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو معاشی پالیسی میں ایک مستقل رجحان بنتا جا رہا ہے۔
ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر انحصار اور مستقبل کے معاشی اثرات
وفاقی بجٹ 2026-27 میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر انحصار بڑھنے کی صورت میں معاشی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے، اگرچہ حکومت کے لیے ریونیو بڑھانا ضروری ہے، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس پالیسی کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی اور معاشی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔