ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے، کی ایک خفیہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’سیاسی دباؤ کا ہتھیار‘ قرار دیا ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے ایران کی متاثرہ جوہری تنصیبات تک محدود رسائی پر تشویش ظاہر کی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اگر آئی اے ای اے سفارتی حل کا حصہ بننا چاہتی ہے تو اسے اپنی تکنیکی رپورٹس کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔
غریب آبادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’اگر ایجنسی سفارتی حل کا حصہ بننا چاہتی ہے تو اسے ایک تکنیکی رپورٹ کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل کرنے سے گریز کرنا ہوگا‘۔
جوہری تنصیبات تک رسائی پر عالمی ادارے کی تشویش
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے آئی اے ای اے کی ایک خفیہ رپورٹ دیکھی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران میں جوہری تنصیبات تک رسائی نہ ہونا ’جوہری پھیلاؤ سے متعلق تشویش‘کا باعث ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں نے ایک ’غیر معمولی صورتحال‘ پیدا کر دی ہے، تاہم اس نے زور دیا کہ تصدیقی سرگرمیاں بلا تاخیر دوبارہ شروع کی جانی چاہئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اگرچہ ایجنسی تسلیم کرتی ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور مقامات پر فوجی حملوں نے ایک غیر معمولی صورتحال پیدا کی ہے، تاہم ایجنسی کے لیے ایران میں تصدیقی سرگرمیاں بلا تاخیر انجام دینا انتہائی ضروری ہے‘۔
ایران کی جوہری تنصیبات کو حالیہ تنازعات کے دوران اسرائیل اور امریکا کی جانب سے بار بار نشانہ بنایا گیا۔ تہران اس وقت واشنگٹن کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں مصروف تھا جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں وسیع جنگ چھڑ گئی۔
اس سے قبل اسرائیل نے جون 2025 میں بھی ایران کو نشانہ بنایا تھا، اُس وقت بھی واشنگٹن اور تہران جوہری مذاکرات میں مصروف تھے۔ بعد ازاں امریکا نے بھی اضافی حملوں میں حصہ لیا، جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
ایران کا امریکا اور اسرائیل پر خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام
غریب آبادی نے کہا کہ اسرائیلی-امریکی حملے ’نہ صرف ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ ہیں بلکہ ‘جوہری سلامتی پر براہ راست ضرب‘ حملہ بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ محفوظ شدہ جوہری تنصیبات پر بمباری کی جائے، معائنے کے لیے درکار رسائی اور حفاظتی انتظامات کو تباہ کیا جائے اور پھر اسی حملے کے نتائج کو ایران کے خلاف شکایت کے طور پر استعمال کیا جائے‘۔
آئی اے ای اے نے ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی-امریکی حملوں کی مذمت نہیں کی، جس پر تہران بارہا تنقید کر چکا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
جون 2025 میں امریکا نے ایران کی 3 جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو ’تباہ‘ کر دیا، تاہم نقصان کی اصل حد اب تک واضح نہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث وہ معائنہ کاروں کو متاثرہ تنصیبات تک رسائی نہیں دے سکتا۔
جون 2025 میں امریکی حملوں سے قبل آئی اے ای اے نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے۔ اس ذخیرے کی موجودہ صورتحال تاحال غیر واضح ہے، جسے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے آخری بار 10 جون 2025 کو دیکھا تھا۔